آغازِ کلام
Urdu book, p. 341
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں اسلام کا لفظ مسلمان کے معنی میں ہے۔ مہذب دنیا کے لوگ تشویش محسوس کر رہے ہیں کہ مسلم دیوانوں کے ہاتھ میں اگر ایٹم بم آ جائے تو وہ اس کو استعمال کر ڈالیں گے، خواہ اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی برباد ہوں اور ساری دنیا کو مصیبت میں مبتلا کر دیں۔ کسی وقت اسلام سے لوگوں کو رحمت ملی تھی۔ آج دنیا کو اسلام سے صرف زحمت کا اندیشہ مل رہا ہے۔ کیسے عجیب ہیں یہ مسلمان، جن کے پاس نہ اسلام ہے اور نہ عقل، اس کے باوجود انھیں اصرار ہے کہ وہ احمقانہ ہنگاموں کا بازار ضرور گرم کریں گے۔ ۳۱ جولائی ۱۹۹۰ ۲۹ جولائی ۱۹۹۰ کے تحت میں نے حج کے حادثہ کی بابت ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب کا بیان نقل کیا ہے۔ اس کی مزید تائید عبد الماجد ندوی صاحب کے بیان سے ہوئی۔ وہ کشمیر (پونچھ) سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بھی اس سال حج کے لئے گئے تھے اور وہ سرنگ کے اندر خود بھی نہیں گئے تھے۔ بڑی مشکلوں سے وہ باہر آئے۔ واپسی کے بعد وہ ہمارے دفتر میں آئے اور ڈاکٹر اشفاق کے بیان کی تائید کی۔ مگر اس سے پہلے اس واقعہ کے بارہ میں ایرانیوں کے حوالے سے جو خبر پریس میں چھپی وہ سراسر اس سے مختلف تھی، ایرانی جوں کہ اس سال بطور احتجاج حج کے لئے نہیں گئے۔ اور ان کا مطالبہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کو مسلم ممالک کی بین الاقوامی نگرانی میں دیدیا جائے۔ اس لئے انھوں نے اس حادثہ کے بعد ایک جھوٹی رپورٹ تیار کی تاکہ ان کے دعوے کی تائید فراہم ہو سکے۔ ان کے بیان کے مطابق، مذکورہ تاریخ کو سرنگ میں حاجیوں کی بڑی تعداد اکٹھا ہوگئی اس وقت کچھ حاجیوں نے جوش میں آ کر "اللہ اکبر" کا نعرہ لگا دیا۔ اس نعرہ کو سن کر سعودی پولیس سمجھی کہ سرنگ کے اندر ایرانی گھس گئے ہیں اور وہی یہ نعرہ لگا رہے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے بجلی بند کر دی۔ بجلی بند ہونے سے سرنگ کے اندر اندھیرا چھا گیا اور ایئر کنڈیشنر رک جانے کی وجہ سے آکسیجن کی سپلائی کم ہوگئی۔ اس کو دیکھ کر حاجیوں میں بھگڈر مچ گئی اور بہت سے لوگ دب کر مر گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader