Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ساری خبر بالکل فرضی تھی۔ عبد الماجد صاحب نے بتایا کہ روشنی سرنگ کے اندر موجود رہی۔ حادثہ کا سبب صرف یہ تھا کہ دونوں طرف سے بڑی تعداد میں حاجی گھس آئے۔ اور دونوں میں سے کوئی پیچھے ہٹنے پر راضی نہ ہوا، اس لئے یہ حادثہ پیش آیا۔ یکم اگست ۱۹۹۰ عباس محمود العقاد (۱۹۶۴-۱۸۸۹) ایک مصری ادیب اور صحافی ہیں۔ سیرت پر ان کی ایک مشہور کتاب ہے جس کا نام عبقریہ محمد نہے۔ اس کتاب کا سبب تالیف انھوں نے کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی مجلس میں کارلائل کی کتاب کا تذکرہ تھا جس نے پیغمبر اسلام کو نبیوں کا ہیرو (بطل) قرار دیا ہے۔ اس پر حاضرین میں سے ایک غیر مسلم شخص کہہ اٹھا کہ پیغمبر اسلام کا ہیرو انا نہ کردار تلوار اور خون پر مبنی تھا (ان بطولة محمد انما هي بطولة سيف و دماء)، اس تبصرہ کا عباس محمود العقاد پر اتنا اثر ہوا کہ انھوں نے اپنی مذکورہ کتاب لکھ ڈالی۔ یہ صرف العقاد کی بات نہیں۔ یہی مسلمانوں کی عام نفسیات ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم یہ کہہ دے کہ اسلام تلوار کا مذہب ہے یا محمد نے تلوار کے ذریعہ اسلام کو پھیلایا تو تمام مسلمان بھڑک اٹھیں گے مگر یہی مسلمان تمام دنیا میں تلوار کے ذریعہ اسلام کو نافذ کرنے پر تقریریں کر رہے ہیں رشدی فتنے کا مقابلہ تلوار سے کرنا، کشمیر میں تلوار کے ذریعہ اسلام نافذ کرنا، مصر میں تلوار کے زور پر انقلاب لانا، یہ سب کیا ہے، یہ دنیا کے سامنے گویا یہ اعلان کرنا ہے کہ محمد کا مذہب تلوار کا مذہب تھا۔ کیسے عجیب ہیں وہ مسلمان جنھیں خود اپنے قضا کی خبر نہیں۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ ۲۸ جولائی کو میں سوویت یونین (ماسکو) گیا تھا۔ آج وہاں سے واپس آیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ سب سے زیادہ عظمت اور تقدیس لینن کو حاصل ہے۔ اس کی لاش مومیا ٹی کر کے شیشہ کے کیس میں رکھی ہوئی ہے۔ اس کے شاندار مقبرہ پر بے شمار عظیم اہتمام کئے گئے ہیں۔ ساری مملکت میں اس کے شاندار مجسمے لگے ہوئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page