آغازِ کلام
Urdu book, p. 343
By Maulana Wahiduddin Khan
سوویت یونین کمیونسٹ نظریہ پر عقیدہ رکھتا ہے۔ کمیونزم کا عقیدہ خدا کے انکار پر قائم ہوا تھا۔ مگر لینن کی عظمت و تقدیس دیکھ کر خیال آیا کہ اشتراکی دنیا نے خدا کو چھوڑا نہیں، صرف خدا کو بدلا ہے۔ خدا کا عقیدہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ اگر انسان خالق کو چھوڑ دے تو اس کے بعد مخلوق کو اسے خدا کی جگہ پر بٹھانا پڑے گا۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ ۲۰ مارچ ۱۹۹۰ کو میں طرابلس (لیبیا) میں تھا۔ وہاں ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے تحت مختلف ملکوں کے لوگ آئے تھے۔ ان میں سے ایک جناب ایس آئی حسن تھے۔ وہ آزاد کشمیر کے لیڈر تھے اور پاکستان کے وفد کے ساتھ آئے تھے۔ ایس آئی حسن صاحب مجھ کو تنہائی میں لے گئے اور کہا کہ میرے ضیاء الحق صاحب سے بہت قریبی تعلقات تھے۔ وہ ایک مرد مومن تھا۔ ضیاء الحق صاحب کہا کرتے تھے کہ انڈیا کو ہمیں کرنا ہے، ورنہ وہ ہمیں جینے نہیں دے گا۔ انھوں نے پاکستانی کشمیر میں فوجی ٹریننگ کے کیمپ بنائے اور وادی کشمیر کے نوجوانوں کو بلا کر وہاں انھیں فوجی ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دینا شروع کیا۔ یہی تربیت یافتہ نوجوان ہیں جو اس وقت کشمیر میں جہاد آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ موجودہ کشمیری تحریک کا کریڈٹ ضیاء الحق کو جاتا ہے۔ یہ روایت اگر درست ہے تو یہ ایک بدترین کام ہے جو ضیاء الحق صاحب نے کیا۔ یہ صرف تخریب کاری کا ایک کام ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ضیاء الحق اگر واقعہ اسلام کو جانتے تو وہ پاکستانی کشمیر میں دعوتی تربیت کے کیمپ کھولتے۔ وہ کشمیری نوجوانوں کو وہاں بلا کر انھیں سچا داعی بناتے۔ وہ ان کے اندر یہ جذبہ بھرتے کہ وہ اوّلا کشمیر کے ہندوؤں میں اور پھر سارے ہندوستان کے غیرمسلموں میں اسلام کی تبلیغ کریں۔ مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ضیاء الحق صاحب یا کوئی اور لیڈر اس قسم کا تربیتی کیمپ کھولے تو ایسا کیمپ خالی پڑا رہے گا۔ فوجی کیمپ کو بھرنے کے لئے نفرت ہند و کاسرایہ درکار ہے، اور نہ موجودہ مسلمانوں میں افراط کے ساتھ موجود ہے۔ مگر دعوتی کیمپ کو بھرنے کے لئے محبت ہندو کی ضرورت ہے، اور اس سے موجودہ زمانہ کے تمام مسلمان خالی ہو چکے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader