Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 344

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا ابو الکلام آزاد کی ایک کتاب امام حسین اور ان کی شہادت کے بارے میں ہے۔ اس کا نام "شہیدِ اعظم" ہے۔ یہ غالباً ان کا مفصل مقالہ تھا جو بعد کو کتاب کی صورت میں شائع کر دیا گیا۔ امام حسین کے بارہ میں عام تاثر یہی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ان کی شہادت پر مضمون لکھا تو اس کا عنوان "شہادت کبری" قرار دیا۔ اسی طرح ہر لکھنے اور بولنے والا ان کی شہادت کی بابت بڑے بڑے الفاظ بولتا ہے۔ مگر یہ قرآن کی صراحت کے سراسر خلاف ہے۔ کیوں کہ یہ قرآن (الحدید : ۱۰) سے براہِ راست ٹکراتا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، فتح مکہ سے پہلے جو لوگ شہید ہوئے وہ درجہ میں ان لوگوں سے "اعظم" تھے جو فتح مکہ کے بعد لڑیں یا شہید ہوں۔ پھر حضرت امام حسین جو فتح مکہ کے ۵۳ سال بعد شہید ہوئے، وہ شہیدِ اعظم کیسے قرار دئے جاسکتے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے لکھنے اور بولنے والے کس طرح مسلمانوں کو صحیح رہنمائی نہ دے سکے۔ انہوں نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے مسلمانوں کے اندر غلط ذہن پیدا کر دیا۔ اسی غلط رہنمائی کا یہ نتیجہ ہے جو آج ہر جگہ مختلف صورتوں میں نظر آرہا ہے۔ ۵ اگست ۱۹۹۰ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو عراق نے اپنی فوجیں کویت کے اندر داخل کر دی تھیں۔ اب تک کی خبر کے مطابق، وہ سابقہ حالت پر واپس جانے کے لئے راضی نہیں۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ عراق نے کویت کے کچھ گم نام قسم کے چھوٹے فوجی افسروں کو لے کر عراق نواز انقلابی حکومت کویت میں قائم کر دی ہے۔ عراقی حکمراں صدام حسین نے اعلان کیا ہے کہ کویت کے جابر الاحمد الصباح یا ان کی فیملی کے لئے اب کویت واپس آنے کا کوئی سوال نہیں۔ اس معاملہ میں آئندہ کیا ہوگا، کچھ نہیں معلوم۔ مگر میرے نزدیک یہ سراسر بزدلانہ حرکت ہے۔ اگر عراق بہادر اور طاقت ور ہے تو وہ اپنی فوجیں اسرائیل میں کیوں نہیں داخل کرتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page