آغازِ کلام
Urdu book, p. 345
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ کے مسلمان، خواہ وہ افراد ہوں یا حکومتیں، ان کا عام حال یہ ہے کہ وہ اپنوں کے لئے سخت اور دوسروں کے لئے نرم بن گئے ہیں۔ ہر ایک موقع پا کر اپنے بھائیوں کو روند رہا ہے۔ مگر ان میں سے کسی کی یہ ہمت نہیں کہ وہ غیر مسلم طاقتوں کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرے۔ یہ ایک علامت ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان اپنے زوال کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔ ۶ اگست ۱۹۹۰ پاکستان کے دانشوروں اور اسلام پسندوں کو ایک لفظ بہت پسند ہے، اور وہ نظریۂ پاکستان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک نظریہ کے تحت وجود میں آیا، اور وہ نظریہ اسلام تھا۔ اس لئے اسلام اور پاکستان دونوں لازم اور ملزوم ہیں۔ مگر میری رائے اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا مطالبہ اور پاکستان کا قیام اسلام کی نفی کے ہم معنی تھا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جب پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تو اس کی دلیل یہ دی گئی کہ متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت ہوگی۔ جمہوری نظام کے تحت غیر منقسم ہندوستان میں مسلم اقلیت ہندو اکثریت کی محکوم ہو جائے گی۔ اس لئے مسلمانوں کو ایک علیحدہ خطہ درکار ہے، جہاں ان کی اپنی حکومت ہو اور وہ اپنے اسلامی عقیدہ کے مطابق وہاں زندگی گزار سکیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے مسلمانوں کے پاس ایک علیحدہ قومی جغرافیہ یا علیحدہ قومی حکومت موجود نہ تھی۔ مگر اسلام اس وقت بھی پوری طرح ان کے پاس موجود تھا۔ ایسی حالت میں اس مطالبہ کے معنیٰ واضح طور پر یہ تھے کہ اسلام مسلمانوں کو بچانے کے لئے کافی نہیں۔ مسلمانوں کے تحفظ کے لئے اس کے علاوہ ایک چیز درکار ہے، اور وہ مسلمانوں کی قومی حکومت ہے۔ اس قسم کا مطالبہ بلاشبہ اسلام کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار تھا۔ اور جو تحریک اسلام کے خلاف عدم اعتماد کی بنیاد پر اٹھے، اس سے ہرگز اسلام کا نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نصف صدی کی مدت گزرنے کے بعد بھی پاکستان سے اسلام برآمد نہیں ہوا۔ ایک پاکستانی مسلمان سے کشمیر کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی تقسیم اس بنیادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader