Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 346

By Maulana Wahiduddin Khan

اصول پر ہوئی تھی کہ ہندو آبادی والا علاقہ بھارت میں شامل ہو گا اور مسلم آبادی پاکستان میں۔ اس اعتبار سے کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ مگر بھارت دھاندلی کر کے کشمیر پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ اس اصول کو سب سے پہلے خود پاکستان نے توڑا۔ ۱۹۴۷ء میں جونا گڑھ کے مسلم نواب نے پاکستان سے الحاق کی درخواست کی۔ پاکستان نے اس کو منظور کر لیا۔ حالانکہ اصولی موقف یہ تھا کہ پاکستان یہ کہہ کر انکار کر دیتا کہ جونا گڑھ میں ہندو اکثریت ہے، اس لئے اس کا الحاق بھارت سے ہونا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے دھاندلی کی۔ فرق یہ ہے کہ بھارت کی دھاندلی چل گئی، پاکستان کی دھاندلی نہیں چلی۔ انھوں نے کہا کہ جواہر لال نہرو نے وزیر اعظم ہند کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر میں ریفرنڈم کرائیں گے۔ مگر انھوں نے اور ان کے بعد بھارت کے حکمرانوں نے اس وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ پاکستان نے تو خدا سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ پھر اگر انڈیا نے اقوام متحدہ سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا نہیں کیا تو اس میں تعجب یا شکایت کی بات کیا ہے۔ پاکستانیوں نے خدا سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اس نے انھیں علیحدہ ریاست دیدی تو وہ وہاں اسلام کو قائم کریں گے۔ مگر پاکستانیوں نے اپنا یہ وعدہ آج تک پورا نہیں کیا۔ پاکستان کے لوگوں نے اس طرح یہ گواہی دی ہے کہ خدا کے ساتھ بھی وعدہ خلافی کی جاسکتی ہے، پھر اگر بھارت اقوام متحدہ کے ساتھ وعدہ خلافی کرے تو اس پر پاکستان کے لوگوں کو شکایت کیوں۔ ۸ اگست ۱۹۹۰ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ الرسالہ میں مسلم بادشاہوں پر تنقید کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ مسلم بادشاہ اس ملک میں مسلمانوں کی عظمت ماضی کا نشان ہیں۔ اس طرح تو مسلمانوں کے اندر احساس کمتری پیدا ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ آپ کے سامنے عظمت مسلم کا مسئلہ ہے اور میرے سامنے عظمت خدا اور ند ی کا۔ اگر مسلم بادشاہوں نے غلطی کی ہے تو ان کی غلطی کو غلطی کہئے، تاکہ اسلام کی صداقت لوگوں کی نظروں میں باقی رہے۔ اگر آپ نے مسلم بادشاہوں کی غلطی کو غلطی نہ کہا، جب کہ لوگ اچھی طرح ان کا غلط ہونا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page