Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 347

By Maulana Wahiduddin Khan

جانتے ہیں، تو اسلام ایک قومی مذہب بن جائے گا۔ اس کے بعد وہ لوگوں کی نظریں کی کامل صداقت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ دعوتی کلام وہ ہے جس میں ابہام اور پیچیدگی نہ ہو۔ اس کو ایسا ہونا چاہئے کہ داعی کہ اور مدعو فوراً سمجھ جائے۔ کلام کی اسی خصوصیت کو وضوح (clarity) کہا جاتا ہے۔ کلام میں وضوح کی صفت کا تعلق حساسیت سے ہے اور حساسیت کا تعلق مصیبت سے۔ مصیبتیں انسان کو حساس بناتی ہیں اور جو آدمی حساس ہو، اس کی زبان سے واضح کلام ظاہر ہوتا ہے۔ اس معاملہ میں اصول یہ ہے کہ جتنی زیادہ مصیبت اتنی ہی زیادہ حساسیت، اور جتنی زیادہ حساسیت اتنا ہی زیادہ واضح کلام۔ حقیقت یہ ہے کہ واضح کلام مشکل ترین عمل ہے۔ وہ مشکل ترین عمل اس لئے ہے کہ اس کی قیمت اتنی زیادہ دینی پڑتی ہے کہ عام آدمیوں کے لئے اس کی قیمت کی ادائیگی ممکن ہی نہیں۔ ۱۰ اگست ۱۹۹۰ نوائے وقت (۳۱ جولائی ۱۹۹۰) میں یہ خبر پڑھی کہ "روسی مسلمانوں کا ایک وفد آجکل پاکستان آیا ہوا ہے۔ ان کے اعزاز میں ایک تقریب کے موقع پر وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے روسی مسلمانوں کی مدد کے لئے ایک کروڑ روپئے کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔ اس رقم سے روس کی وسط ایشیا کی مسلمان جمہوریوں میں مساجد اور مدارس تعمیر کئے جائیں گے اور روسی مسلمانوں کو اسلامی لٹریچر فراہم کیا جائے گا۔" اس قسم کی خبریں آجکل سوویت یونین کے بارہ میں آتی رہتی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک یہ نا قابل گمان تھا کہ باہر کا کوئی ملک روسی مسلمانوں کو اس مقصد کے لئے رقم دے کہ وہ وہاں اس کو دینی مقاصد میں استعمال کریں۔ یہ ایک نیا انقلاب ہے۔ اس انقلاب میں کسی بھی مسلم شخصیت یا مسلم تنظیم کا کوئی دخل نہیں۔ یہ براہ راست خدائی نصرت کے تحت ظہور میں آیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے خلاف خارجی رکاوٹیں، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہوں، وہ خدا کی طرف سے ختم کر دی جائیں گی۔ ہمیں رکاوٹوں کے خلاف فریاد واحتجاج کرنے کے بجائے اسلام کا مثبت کام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page