آغازِ کلام
Urdu book, p. 348
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے میں مصروف رہنا چاہئے۔ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۹ اگست ۱۹۹۰ء) نے افغانی مجاہدین کے لیڈر برہان الدین ربانی کا انٹرویو چھاپا ہے۔ گفتگو کے دوران انٹرویو ر (عبد اللہ العجلی ) نے پوچھا، کیا آپ کا خیال ہے کہ جہاد افغانستان کی تحریک اشتراکیت کے انہدام کا سبب بنی ہے۔ (هل ترى ان حركة الجهاد الافغاني كانت سبباً في انهيار الشيوعية)، برہان الدین ربانی نے کہا کہ ہاں ، ہمارا یقین یہی ہے۔ انٹرویو ر نے دوبارہ پوچھا کہ پھر کیا وجہ ہے کہ نجیب کی حکومت ابھی تک بدستور باقی ہے۔ اس کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکا۔ برہان الدین ربانی کا جواب یہ تھا کہ روسی فوجیں اگر چہ افغانستان سے واپس چلی گئی ہیں ، مگر ہوائی جہازوں کے ذریعہ اب بھی وہ نجیب حکومت کے لئے ہتھیار پھینک رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ جواب بالکل لغو ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب روس اپنی فوجوں اور اپنے ہتھیاروں سے کلی طور پر نجیب کی مدد کر رہا تھا ، اس وقت ، اپنے دعوے کے مطابق، افغانی مجاہدین نے روسیوں کو شکست دیدی۔ اب جب کہ روسی فوجیں افغانستان سے واپس جاچکی ہیں، اور روس صرف جزئی طور پر نجیب اللہ کی مدد کر رہا ہے تو افغانی مجاہدین اس کو زیر کرنے سے کیوں عاجز ہونگے۔ اصل یہ ہے کہ پہلے امریکہ مکمل طور پر افغانی مجاہدین کی مدد کر رہا تھا۔ امریکہ کی مدد سے افغانی مجاہدین نے روسی فوجوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ اب امریکہ نے اپنی مدد واپس لے لی تو افغانی مجاہدین عاجز ثابت ہو رہے ہیں۔ ۱۲ اگست ۱۹۹۰ مولانا انیس لقمان ندوی مالیگاؤں کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پچھلے کئی سال سے مالیگاؤں میں کوئی ہندو مسلم فساد نہیں ہوا۔ اس کی وجہ مالیگاؤں کے ایک مقامی مسلم لیڈر نے یہ بتائی کہ جب بھی ہندو حرکت میں آتے ہیں تو مسلمان ان کو چھیرا دکھاتے ہیں۔ اس طرح وہ ڈر کر بیٹھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader