آغازِ کلام
Urdu book, p. 349
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتے ہیں اور فساد برپا کرنے سے باز رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ مالیگاؤں کے مسلمان اپنی اسی روش کی بنا پر اپنے خلاف زیادہ بڑا فساد کر وار ہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مالیگاؤں کو حکومت نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ وہاں کوئی ترقی کا کام نہیں کیا جاتا۔ مزید یہ کہ مالیگاؤں کے مسلمانوں کی اقتصادیات کا انحصار پاور لوم پر تھا۔ حکومت نے پاور لوم پر ایسی پابندیاں لگا دیں کہ مسلمانوں کی معاشیات تہس نہس ہو کر رہ گئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ چھرا ”فساد“ کے مسئلے کا صرف وقتی حل ہے، وہ مستقل حل نہیں۔ مسلمانوں نے کئی جگہ ایسا کیا۔ مثال کے طور پر بھاگلپور میں۔ مگر ہندوؤں نے اس کے بعد یہ کیا کہ اندر اندر منصوبہ بندی کی۔ انھوں نے پولیس اور ایڈمنسٹریشن کو مسلمانوں کی مبالغہ آمیز کہانیاں سنا کر اپنا طرفدار بنا لیا۔ اس کے بعد انھوں نے پولیس کو ساتھ لے کر ایسا فساد کیا کہ مسلمانوں کی تمام چھرے بازی اس کے مقابلہ میں ناقابل ذکر ہو کر رہ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ بھائی کی طرح مل کر رہیں۔ اختلافی باتوں سے اعراض کریں۔ اپنے معاملات کو حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ حل کریں نہ کہ چھرے اور بندوق سے۔ ۱۳ اگست ۱۹۹۰ عراق کے صدر صدام حسین نے ۲ اگست ۱۹۹۰ کو اپنی فوجیں کویت میں داخل کر دیں۔ ۸ اگست کو انھوں نے عراق کے ساتھ کویت کے انضمام کا اعلان کر دیا۔ اپنے اعلان کے مطابق، اب صدام حسین اس مشترک ملک کے صدر ہیں۔ عراقی حکومت نے کویتی افسروں کو پکڑا اور انھیں بیدادلے جا کر گولی مار دی۔ بہت سی سرکاری عمارتوں کو بم سے اڑا دیا۔ ان کے سفاکانہ عمل سے صرف کویت کا تیل اور اس کے متعلقات بچے ہیں۔ کویت کی زمین کے نیچے دنیا کے محفوظ تیل کے ذخیرے کا ۲۰ فیصد حصہ موجود ہے اور صدام حسین کو اس تیل کی شدید ضرورت ہے، کیوں کہ وہ عراق۔ ایران جنگ (۸۸- ۱۹۸۰) میں تقریباً ۵۰ بلین ڈالر کے مقروض ہو چکے ہیں۔ ۹ اگست کو اگرچہ اقوام متحدہ نے متفقہ طور پر اس انضمام کو خلاف قانون اور کالعدم قرار دیا ہے اور امریکہ نے اپنی فوجیں کویت سے ملی ہوئی سعودی سرحد پر اتار دی ہیں۔ مگر صورتحال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader