Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

عربی زبان کے ساتھ اس طرح کا معاملہ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مزید اہتمام ہے تاکہ یہ زبان زندہ رہے، کیوں کہ قرآن کے محفوظ رہنے کے لئے اس کی زبان کا محفوظ رہنا بھی ضروری ہے شاید اسی مصلحت کی خاطر اللہ تعالیٰ نے عربی کے ساتھ مادی فائدہ شامل کر دیا ہے۔ ۱۵ فروری ۱۹۸۹ مولانا محمود علی قاسمی (عمر ۳۸ سال) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ بلال پور (ضلع میدک) کے رہنے والے ہیں۔ اور کوہیبری میں پھل کی دکان کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۷ کے رمضان میں بلال پور کے ہندوؤں کو وشو ہندو پریشد نے اکسایا۔ بلال پور کی آبادی تقریباً ۲۰۰۰ ہے۔ اس میں ۱۵۰۰ ہندو ہیں اور ۵۰۰ مسلمان۔ پہلے انھوں نے مسلمانوں کے قبرستان میں زبردستی مندر بنانے کی کوشش کی، اس میں وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے عید سے پہلے مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کیا۔ وہ بھی ناکام رہا۔ آخر انھوں نے مسلمانوں کی ایک زمین کو مندر کی زمین بتا کر اس پر قبضہ کرنا چاہا، جہاں ایک کنواں تھا۔ انھوں نے اس کو پتھروں سے بھرنا شروع کیا اور کہا کہ یہاں ہم مندر بنائیں گے۔ ان کارروائیوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان مشتعل ہو کر کوئی جارحانہ کارروائی کریں اور پھر وشو ہندو پریشد کو فساد کرنے کا بہانہ مل جاتے۔ مولانا محمود علی قاسمی نے بتایا کہ پہلے میں بہت جذباتی تھا۔ مگر اب الرسالہ پڑھنے سے میرا مزاج بدل گیا ہے۔ چنانچہ میں نے مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کیا اور فوراً پوسٹ آفس جا کر کو ہیر کے پولیس اسٹیشن کو ٹیلی گرام بھیج دیا۔ اس وقت کو ہیر میں زیادہ سپاہی نہیں تھے۔ انھوں نے اپنے ہیڈ کوارٹر سے ربط قائم کیا۔ اور مزید پولیس گاڑی منگوڑا کر ایک گھنٹہ میں بلال پور پہنچ گئے۔ اس وقت ہندو لوگ ابھی مسلمان کی زمین میں موجود تھے اور کنویں کو آخری طور پر بھر رہے تھے ۔ پولیس نے ان کو Red handed پکڑ لیا۔ ان کے چودہ آدمیوں پر مداخلت بیجا اور اینڈا رسانی وغیرہ کے مقدمات قائم کر دئے ۔ حتیٰ کہ ان کی ضمانت بھی نہ ہو سکی۔ آخر میں مولانا محمود علی قاسمی نے عدالت میں جا کر ان لوگوں کی معافی کا بیان دے دیا، ورنہ ان کی سزا یقینی تھی۔ اس واقعہ کے بعد بلال پور کی فضا بالکل بدل گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page