آغازِ کلام
Urdu book, p. 350
By Maulana Wahiduddin Khan
ابھی تک غیر یقینی نظر آتی ہے۔ واشنگٹن میں کویت کی عالی شان ایمبیسی ہے۔ ایک امریکی صحافی اس ایمبیسی میں گیا۔ اس سلسلہ میں اس نے بڑی سبق آموز رپورٹ تیار کی جو ہندوستان ٹائمز (۱۰ اگست ۱۹۹۰) میں صفحہ ۱۳ پر نقل کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کویت کے سفیر شیخ سعود الناصر الصباح (۲۵ سال) اس شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو ۲۵۶ سال سے کویت پر حکومت کر رہا تھا۔ اس خاندان کے تقریباً ایک ہزار افراد ہیں اور یہی حکومت کے تمام الاع شعبوں پر قابض ہیں۔ امریکی صحافی کی ملاقات ایمبیسی میں سفیر کے صاحبزادہ نواف سے ہوئی جو پرنسٹن یونیورسٹی کے ایک طالب علم ہیں۔ چند دن پہلے تک وہ کویت کی حکمران فیملی کے ایک خوش قسمت فرد تھے۔ مگر آج وہ نہ زمین پر اپنے آپ کو بے جگہ محسوس کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں واپس جائیں۔ اگر ضرورت ہو تو وہ کویت کے لئے لڑ کر مر جائیں گے۔ انھوں نے جذبات سے بھری ہوئی آواز میں کہا کہ ایک ملک کے بغیر میرا کوئی انسانی وجود نہیں۔ Without a country, I am not a man. اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ شہزادہ نواف نے اس وقت بظاہر صرف ملک کھویا ہے۔ بقیہ تمام چیزیں اب بھی ان کے پاس موجود ہیں۔ پھر آخرت میں انسان کا حال کیا ہو گا جب وہ اپنا ملک بھی کھو دے گا اور اسی کے ساتھ بقیہ تمام چیزیں بھی۔ ۱۴ اگست ۱۹۹۰ لاہور سے ایک ماہنامہ "اشراق" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ اگست ۱۹۹۰ میں شدرات (اڈیٹوریل) کے تحت درج ہے: "پاکستان میں سیاسی خود مختاری حاصل کر لینے کے بعد ہمارا فرض ہے کہ ہم یہاں اپنے نظام پر دین حق کی بالا دستی قائم کریں۔ ہر حکم جو قرآن میں ہے اسے بہر حال نافذ قرار پانا چاہئے۔ اس قوم کی معیشت، معاشرت، سیاست، قانون، تہذیب، ثقافت ہر چیز کو لازماً اصول و ضوابط کا تابع ہونا چاہئے جو قرآن و سنت میں بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح یہاں وہ انقلاب برپا ہوگا جس کو اسلامی انقلاب کہا گیا ہے" صفحہ ۴ پاکستان کے تمام اسلام پسند اسی بات کو ایک یا دوسرے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader