Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 351

By Maulana Wahiduddin Khan

گر یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اسلامی نظام کا قیام ، پاکستان کے قیام کا اگلا مرحلہ نہیں ہے ۔ اسلامی نظام کا قیام ، ایمان کے قیام کا اگلا مرحلہ ہے۔ پاکستان کے اسلام پسندوں نے یہ ترتیب اختیار کی کہ پہلے ایک علیحدہ خطہ (زمین پاکستان) حاصل کرو ، اس کے بعد وہاں اسلامی نظام قائم کرو۔ یہ ترتیب بالکل لغو ہے۔ صحیح ترتیب یہ ہے کہ پہلے افراد کے اندر ایمانی انقلاب لاؤ ، اس کے بعد ملک کے نظام میں وہ ہر چیز برپا ہوگی جس کو اجتماعی انقلاب کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے لوگ جس ترتیب سے کام کرنا چاہتے ہیں ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو جاہل رکھے ۔ اس کے بعد وہ بازار میں ایک دکان لے اور اس پر ” کلینک “ کا بورڈ لگا کر اپنے جاہل بیٹے سے کہے کہ میں نے دکان حاصل کرلی ہے ، اب تم وہاں بات شاعدہ مطب شروع کر دو۔ ۱۵ اگست ۱۹۹۰ء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اکتوبر ۱۹۸۹ء سے بات قاعده وائس چانسلر کے بغیر ہے۔ وہ ایکٹنگ وائس چانسلر کے اوپر چل رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کا پرزور مطالبہ ہے کہ وہ کسی بیوروکریٹ کو وائس چانسلر کی حیثیت سے قبول نہیں کریں گے۔ جب کہ مسلمانوں میں قحط الرجال کا عالم یہ ہے کہ بیوروکریٹوں کو اگر چھوڑ دیا جائے تو وائس چانسلر کے لئے پانچ ناموں کا وہ پینل نہیں بنتا جو صدر جمہوریہ کے پاس از روئے قاعدہ بھیجنا ضروری ہے تفصیل کے لئے : سید حامد آئی اے ایس کا مضمون جو تین قسطوں میں قومی آواز ۱۲-۱۳-۱۴ اگست ۱۹۹۰ میں چھپا ہے) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔ انھیں صرف سطحی ظواہر دکھائی دیتے ہیں جن پر وہ بے معنی ہنگامہ کرتے ہیں۔ اسی کی ایک مثال مسلم یونیورسٹی کا مسئلہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر میں صرف ذاتی اہلیت کو دیکھنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page