Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 352

By Maulana Wahiduddin Khan

ملازمت کرتے رہے۔ سرسید کے نہایت اہم ساتھیوں میں بھی کئی بیورو کریٹ تھے مثلاً محسن الملک اور وقار الملک۔ اس قسم کے لایعنی ہنگاموں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ "دشمنوں" کے پہنچائے ہوئے نقصانات سے ہزاروں گنا زیادہ ہے۔ ۱۶ اگست ۱۹۹۰ ندوہ (لکھنؤ) سے ایک پندرہ اخبار نکلتا ہے جس کا نام "تعمیرات" ہے۔ اس کے صفحہ اول پر جلی حرفوں میں مولانا سید سلیمان ندوی کی ایک عبارت سیرۃ النبی (جلد ۶) سے نقل کی گئی ہے۔ اس کا پہلا جملہ یہ ہے: حقیقت میں نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ تعلیم محمدی نے اخلاق کی اہمیت کو عبادات سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اسی طرح کوئی کہتا ہے کہ اسلام میں عبادت سے بھی زیادہ اہمیت علم کی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اسلام میں عبادت سے بھی زیادہ اہمیت حکومتی انقلاب کی ہے۔ وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں کہنے کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں عبادت کا جو تصور ہے اس کے لحاظ سے عبادت انھیں علم اور اخلاق اور اقتدار سے کم محسوس ہوتی ہے۔ وہ عبادت کو مراسم ظاہری کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں۔ اس تقابل میں ان کو عبادت چھوٹی چیز دکھائی دیتی ہے اور دوسری چیزیں بڑی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر یہ تقابل غلط ہے اور اس غلطی کا سرچشمہ عبادت کا ناقص تصور ہے۔ عبادت اپنی حقیقت کے اعتبار سے عظیم تر فعل ہے۔ عبادت ظاہری حرکات وسکنات کا مجموعہ نہیں۔ وہ خدا وند ذوالجلال کی معرفت سے پیدا ہونے والا عمل ہے۔ عبادت اگر حقیقی طور پر کسی شخص کی زندگی میں آجائے تو اس کے نتیجہ میں ہر دوسری چیز اپنے آپ آ جاتی ہے۔ مذکورہ عبارت میں صاحب تحریر نے اخلاق کا تقابل عبادت سے کیا ہے۔ مگر زیادہ صحیح لفظوں میں یہ اخلاق کا تقابل عبادت کے ظاہری ڈھانپچہ سے ہے۔ عراق کی آمدنی کا ۹۵ فیصد ذریعہ تیل کی قدرتی دولت ہے۔ عراق کے موجودہ فوجی صدر صدام حسین نے ۱۹۵۸ میں شاہ کے خلاف فوجی انقلاب کر کے عراق پر قبضہ کر لیا۔ صدام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page