Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 353

By Maulana Wahiduddin Khan

حسین نے عراق کو زرعی یا صنعتی ترقی نہیں دی۔ البتہ اس کی تیل کی دولت سے مضبوط فوج بنالی۔ ایران کے خلاف ناکام جنگ ( ۱۹۸۰ - ۱۹۸۰ء) میں عراق کا ۱۲۰ بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ وہ ۷۰ بلین ڈالر کا مقروض ہوگیا۔ دونوں طرف کے ایک ملین آدمی مارے گئے ۔ مگر صدام حسین کو عرب لیڈر بننے کا جنون ہے۔ چنانچہ انہوں نے ۲ اگست ۱۹۹۰ء کو پڑوسی ملک کویت میں ایک لاکھ سے زیادہ فوج داخل کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ آجکل امریکہ کی قیادت میں مختلف ممالک کی فوجیں عراق کی ناکہ بندی کئے ہوئے ہیں۔ اخبارات میں آجکل روزانہ صدام حسین کے بارہ میں خبریں ہوتی ہیں۔ ہندوستان ٹائمنس ۲۷ اگست ۱۹۹۰ء میں انگریزی صحافی فرینکل (Glenn Frankel) کی ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس نے لندن میں مقیم عراقیوں سے مل کر یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔ ان عراقیوں کا کہنا ہے کہ عراق میں فوجیوں اور غیر فوجیوں میں کثرت سے صدام حسین کے مخالف ہیں۔ مگر صدام حسین نے نہایت بے رحمانہ انداز میں انہیں کچل دیا ہے۔ ریاض ابراہیم ایک عراقی تھے۔ انھوں نے لندن میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۸۲ میں وہ عراقی حکومت میں ہیلتھ منسٹر مقرر ہوئے۔ اس زمانہ میں عراق ایران کی جنگ کا مسئلہ عراق کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا تھا۔ امن کی بات چیت کے لئے ایران کی شرط یہ تھی کہ پہلے صدام حسین کو صدارت سے ہٹایا جائے۔ ان حالات میں بغداد میں ایک کیبنٹ میٹنگ ہوئی۔ صدام نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے۔ ابتداً تمام منشتروں نے یہ کہا کہ صدام حسین کو صدارت کے عہد سے پر قائم رہنا چاہئے ۔ صدام نے آخر میں پیش کش کی کہ میں صدارت سے استفادے دوں تاکہ ایران سے امن کی بات چیت شروع ہوسکے۔ اس موقع پر ریاض ابراہیم نے یہ تجویز پیش کی کہ صدام حسین عارضی طور پر صدارت کے عہد سے ہٹ جائیں۔ یہاں تک کہ امن کا معاہدہ (Peace Accord) فائنل ہو جائے ۔ صدام حسین نے ریاض ابراہیم کا شکریہ ادا کیا۔ مگر اس کے بعد ہی صدام نے حکم دیا کہ انھیں گرفتار کرلیا جائے ۔ اس کے بعد ریاض ابراہیم کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور ان کی لاش ایک کالے تھیلے میں بھر کر ان کے گھر کے سامنے پھینک دی گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page