آغازِ کلام
Urdu book, p. 354
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب سے گفت گو کے دوران میں نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام میں جنگ کسی آفاقی سبب سے آتی ہے، وہ اسلام کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے تو اسلام کو بھکشوؤں کا مذہب بنا دیا۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام ذہن ہے۔ ان مسلمانوں کو نہ تو قرآن والے دین کا پتہ ہے اور نہ انھیں جدید کی کوئی خبر ہے۔ وہ صرف اسلام کے فاتحانہ قصوں کو جانتے ہیں جن کو وہ شاعرانہ اور خطیباندا انداز میں پڑھتے اور سنتے رہے ہیں۔ ان حالات نے مسلمانوں کی ذہن سازی کے کام کو پہلا کام بنا دیا ہے، مگر یہی وہ کام ہے جس کا آج کہیں وجود نہیں۔ آج مسلمانوں میں بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، مگر کوئی بھی ایسی نہیں جس کو ذہن سازی کی مہم کہا جاسکے۔ ۱۹ اگست ۱۹۹۰ ہندستان ٹائمز کے شمارہ ۱۵ اگست ۱۹۹۰ میں ڈاکٹر گوپال سنگھ (۱۹۹۰ - ۱۹۱۷) کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ تقسیم (۱۹۴۷) کے وقت ضلع گوردا سپور میں ۵۰ فیصد سے کچھ کم کی آبادی میں مسلمان نصف سے کچھ زیادہ (50.4 per cent) اور ہندو نصف سے کچھ کم (49.6 per cent) تھے ۔ اب سوال یہ تھا کہ گرداسپور کو انڈیا سے ملایا جائے یا پاکستان سے۔ باؤنڈری کمیشن کے واحد ممبر (Mr. Radcliffe) کو ہندو نما ئندہ نے مسلم علما کا فتویٰ دکھایا جس میں قادیانیوں کو کافر اور اسلام سے خارج قرار دیا گیا تھا۔ اس کے مطابق، گوردا سپور کے قادیانیوں کو مسلم تعداد سے الگ کر دیا ۔ اور پھر گورداسپور کو انڈیا سے ملا دیا گیا۔ یہی گوردا سپور ہے جس نے انڈیا کو کشمیر کے لئے راستہ (Road link) دیدیا۔ ورنہ انڈیا کے لئے کشمیر تک پہنچنا ہی ناممکن تھا۔ مسلم علما کی تکفیر بازی کے مشغلہ نے ملت اسلام کو بے شمار نقصان پہنچائے ہیں، انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ میری عمر جب ۵ سال تھی، اس وقت ستمبر ۱۹۳۹ میں جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر نے اپنی فوجیں پولینڈ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader