آغازِ کلام
Urdu book, p. 355
By Maulana Wahiduddin Khan
میں داخل کر دیں اور نہایت تیزی سے۔ پولینڈ پر قبضہ کر لیا۔ مجھے یاد ہے کہ اچانک ایک دن انگریزی اخبار (پائینر) میں صفحہ اول کی پہلی سرخی یہ تھی : پولینڈ جرمنی کے قبضہ میں اب پچاس سال بعد ۲ اگست ۱۹۹۰ کو اچانک یہ خبر ساری دنیا میں پھیل گئی کہ عراق کے حکمراں صدام حسین نے ایک لاکھ طاقتور فوج کویت کے اندر داخل کر دی اور اس پر قبضہ کر کے اس کو عراق میں شامل کر دیا۔ ٹائمس آف انڈیا کا عنوان ہے : Iraq overruns Kuwait. آجکل روزانہ اخبارات کے صفحہ اول کی سب سے اہم سرخی یہی ہوتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں سب سے کم جو چیز ہے وہ ہے تاریخ سے سبق لینا۔ ۲۱ اگست ۱۹۹۰ مالدیپ کے ایک سفر میں میری ملاقات احمد دیدات صاحب سے ہوئی۔ وہ ساؤتھ افریقہ میں رہتے ہیں۔ اور عیسائیوں سے مناظرہ کر کے انھوں نے کافی شہرت حاصل کی ہے۔ عربوں سے انھیں کافی مالی تعاون ملا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ساؤتھ افریقہ میں اپنا ایک بہت بڑا اسنٹڑ قائم کر لیا ہے۔ مالدیپ کے ایک ہوٹل میں احمد دیدات صاحب کو میں نے ایک بار دیکھا کہ وہ کسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے قریب کی کرسی خالی تھی۔ میں بھی وہاں جاکر بیٹھ گیا۔ بات چیت کے دوران میں نے کہا کہ ایک سوال میں اکثر لوگوں سے کرتا ہوں وہی سوال میں آپ سے بھی کر رہا ہوں۔ آپ اس کے بارے میں مجھے کچھ بتائیں۔ پھر میں نے کہا کہ مجھے بتائیے کہ آپ کی خاص دریافت (Discovery) کیا ہے۔ انھوں نے میرے سوال کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اور کسی قدر غیر سنجیدہ انداز میں اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا: یہ سب موشکانی (Hair splitting) ہے۔ میں نے اس کے بعد ان سے مزید گفتگو نہ کی۔ کیوں کہ میں نے محسوس کیا کہ اس قسم کا سوال ان کی شعوری سطح سے باہر کی چیز ہے۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ مسلمانوں کو گہرے سوالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader