آغازِ کلام
Urdu book, p. 356
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عربی پرچہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس میں بتایا گیا تھا۔ سوڈان کے جنوبی علاقہ میں کس طرح مسیحی مبلغین مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں سرگرم ہیں۔ جنوبی سوڈان میں ۱۸ فیصد مسلمان ہیں، ۷ فیصد مسیحی ہیں اور باقیہ بت پرست ہیں۔ عیسائی مبلغین کا کام زیادہ تر انہیں مسلمانوں میں ہو رہا ہے۔ یہ مسلمان بیشتر بے پڑھے لکھے اور غریب ہیں۔ چنانچہ مضمون کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا گیا تھا کہ مسیحی مبلغین سیدھے سادے مسلمانوں کا استحصال کر رہے ہیں: النصاریٰ يستغلون البُسَطاء مسیحی مبلغین کے سلسلہ میں مسلمان اکثراسی قسم کی بات کرتے ہیں۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ اس لئے کہ اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو یہی بات خود مسلم مبلغین پر بھی اسی طرح صادق آتی ہے۔ قرآن میں ہے کہ پیغمبر کی تبلیغ پر جو لوگ ایمان لائے ان کو اہل شرک آرا ذلّنا کہتے تھے ۔ ہندوستان میں جن ہندوؤں نے اسلام قبول کیا وہ زیادہ تر نچلی سطح کے لوگ تھے ۔ اونچی ذات کے ہندوؤں نے بہت کم اسلام قبول کیا۔ امریکہ میں آجکل بہت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں مگر وہ سب زیادہ تر سیاہ نام (Black Americans) ہوتے ہیں جو امریکہ کا سب سے زیادہ پست طبقہ شمار ہوتا ہے۔ وغیرہ ۲۳ اگست ۱۹۹۰ء سعودی عرب کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۴ صفر ۱۴۱۱ھ ، ۲۳ اگست ۱۹۹۰ء) میں ایک عرب اہل قلم یوسف البدری کا مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے بتایا ہے کہ جس زمانہ ایران اور عراق کے درمیان جنگ جاری تھی ، اس زمانہ میں خمینی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ مقدس کاراستہ بغداد ہو کر جاتا ہے۔ (الطريق الى القدس يمر ببغداد)، دوسری طرف صدام کے حامی یہ نعرہ لگار ہے تھے کہ قدس کا راستہ تہران ہوکر جاتا ہے (الطريق الى القدس يمر بطهران)۔ ایران اور عراق کی جنگ ۸ سال (۱۹۸۸ - ۱۹۸۰ء) باہمی کشت و خون کے بعد ختم ہو گئی۔ قدس تک پہنچنے کا کارنامہ نہ امام خمینی انجام دے سکے نہ صدام حسین۔ اب صدام نے دوبارہ اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader