آغازِ کلام
Urdu book, p. 357
By Maulana Wahiduddin Khan
پٹرول کے مسلم ملک کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ دوبارہ صدام اور ان کے حامیوں کا نعرہ ہے کہ قدس کا راستہ کویت ہو کر جاتا ہے (الطريق الى القدس يمر بالكويت) اس قسم کے الفاظ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں کو قدس کی بازیابی سے کوئی حقیقی دلچسپی نہیں ۔ ان کا واحد مقصد صرف یہ ہے کہ قدس کا نام لے کر مسلمانوں کا استحصال کریں اور ان کے اوپر اپنی قیادت قائم کریں ۔ ۲۴ اگست ۱۹۹۰ پاکستانی تحریک کے لیڈر مسٹر محمد علی جناح نے ۲۷ مارچ ۱۹۴۷ کو مین چینبر آف کامرس ، بمبئی میں تقریب کرتے ہوئے کہا تھا، پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ اور برادرانہ سلوک کیا جائے گا۔ اس کے ثبوت میں ہماری تاریخ شاہد ہے ۔ اسلامی تعلیمات نے ہم کو یہی سکھایا ہے (والے وقت ۲۱ اگست ۱۹۹۰) مسٹر جناح نے جس " منصفانہ اور برادرانہ " سلوک کا دعویٰ غیر مسلموں کے بارہ میں کیا تھا وہ سلوک پاکستان کے لوگ خود اپنے مسلم بھائیوں سے بھی نہ کر سکے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا اقتدار اسلامی تاریخ " کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی ایک زوال یافتہ نسل کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ کے الفاظ تاریخ کے صفحات سے نکل کبھی واقعہ نہیں بنتے۔ یہ دراصل افراد ہیں جو واقعات کو ظہور میں لاتے ہیں ۔ مگر موجودہ زمانہ کے تمام قائدین نے یہی کیا کہ وہ تاریخ کا حوالہ دے کر شاندار تقریریں کرتے رہے ۔ ان میں سے کسی نے بھی موجودہ مسلم نسلوں کی ذہنی تعمیر اور اخلاقی اصلاح کے لئے کوئی حقیقی کوشش نہ کی ۔ ۲۵ اگست ۱۹۹۰ ۱۹۸۹ کے لئے امن کا نوبیل انعام دلائی لاما کو دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں ملنے والی رقم کو انھوں نے فوراً غریبوں کے لئے وقف کر دیا۔ نوبیل انعام کے بعد ۱۹۹۰ میں امریکہ سے ایک کتاب موجودہ دلائی لاما کے بارہ میں چھپی ہے جو جو چوتھے دلائی لاما ہیں۔ یہ خوبصورت کتاب ۱۵۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس کا نام ہے : The Dalai Lama: A Policy of Kindness

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader