آغازِ کلام
Urdu book, p. 358
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب میں مائیکل گڈ مین (Michael Goodman) کا ایک تبصرہ دلائی لاماکے بارے میں نقل کیا گیا ہے۔ اس نے دلائی لاماکے حلیہ کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات کہ دلائی لاماکے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ مصیبت کے سامنے بھی مسکرائیں جس کا تجربہ پچھلے تیس برسوں سے ہورہا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے آدمی ہیں جس نے اندرونی امن کو پالیا ہے : That he is able to laugh in the face of adversity after all he has experienced during the past three decades, suggests that he is a man who has found inner peace. دائی کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں کو نظر انداز کرے۔ اس کا ایسا کرنا دوسروں کی نظر میں اس کی یہ تصویر بنتا ہے کہ وہ ایک پایا ہو انسان ہے نہ کہ کھویا ہوا انسان۔ ۲۶ اگست ۱۹۹۰ عبد الہادی علیم (۱۹۷۰) بستی کے رہنے والے ہیں۔ پچھلے رمضان میں وہ بمبئی سے بستی جانے کے لئے ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔ ایک ہندو نوجوان سے ٹرین میں ملاقات ہوئی۔ وہ کانپور کا رہنے والا تھا۔ اس کا نام و پتہ یہ ہے : Jetandra Gupta 405/8, Shastri Nagar, Kanpur 208 005 گفتگو کے دوران ہندو نوجوان نے کہا کہ ہم کو مسلمانوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ البتہ ہم کو ان مسلمانوں سے نفرت ہے جو ہندوستان میں رہ کر پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ابھی کانپور میں ایک مسلمان نے کہا کہ آنے والے کرکٹ میچ میں اگر پاکستان ہار گیا اور ہندوستان جیت گیا تو میری عید کی ساری خوشی ختم ہو جائے گی۔ یہ بات بالکل صحیح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی اسی قسم کی نادانیوں نے اس ملک میں ہندو مسلم مسئلہ پیدا کیا ہے۔ دوسری کوئی چیز اس کا سبب نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader