Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 359

By Maulana Wahiduddin Khan

عراق کے حکمراں صدام حسین نے ۲ اگست کو فوجی کارروائی کر کے کویت پر قبضہ کر لیا۔ قاہرہ کی جامعۃ الازہر کے شیخ جاد الحق نے اس کو غدر قرار دیا اور کہا کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ صدام حسین سے جنگ کریں۔ مصر کے مفتی اعظم محمد سید طنطاوی نے بھی شیخ الازہر کی تائید کی۔ اسی طرح ہندوستان اور دوسرے تمام ملکوں کے علماء نے صدام کے خلاف سخت بیانات دئے ہیں۔ دوسرا طبقہ جو صدام حسین سے برہم ہے وہ ملوك کا طبقہ ہے۔ ان کے علاوہ عرب عوام کی اکثریت صدام حسین کے اقدام پر خوش ہے۔ ملوك کی برہمی اس لئے ہے کہ ان کا اقتدار چھن رہا ہے۔ علماء کے رد عمل کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت تمام دنیا کے علماء انھیں ملوك کے مالی تعاون پر زندہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ عرب عوام کی رائے ان سے مختلف کیوں ہے۔ ٹائم میگزین (۲۷ اگست ۱۹۹۰ء) کی ٹیم عرب ملکوں میں گئی اور وہاں اس نے براہ راست ربط کے ذریعہ عرب عوام کا تاثر معلوم کیا۔ اس کی رپورٹ یہ ہے کہ عرب عوام کے اوپر سب سے زیادہ جو احساس چھایا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی قوموں نے ان کے قومی وقار کو مجروح کیا ہے۔ وہ اپنی اس عظمت کو واپس لانا چاہتے ہیں جو ماضی میں انھیں حاصل تھی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صدام حسین اگر طاقتور ہو جائے تو وہ عرب عظمت کو دوبارہ واپس لائے گا۔ چنانچہ وہ صدام حسین کو صلاح الدین ایوبی کا ظہور ثانی (Reincarnation) سمجھتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ عرب یوسف کوائش نے ٹائم کے نامہ نگار سے کہا کہ میں کسی بھی عرب قائد کو پسند کروں گا جو عربوں کو متحد کر دے، خواہ بذریعہ طاقت۔ ہم ایک بڑی عرب سلطنت دیکھنا چاہتے جو ہمارے کلچر کو قدیم عظمت پر قائم کر دے : I love any Arab Leader who will unite the Arabs, even by force. We want to see one empire restoring our culture to its former glory (p. 20). ڈاکٹر گوپال سنگھ گوا اور نا گالینڈ کے گورنر تھے۔ گورنر کی حیثیت سے ان کو اپنی حکومت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page