آغازِ کلام
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان میں مسلمانوں کی مظلومیت کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ یہ مظلومیت کا معاملہ نہیں، یہ نادانی کا معاملہ ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مسقط میں ایسا کر سکتے ہیں کہ سلطان مسقط کے خلاف تقریر کریں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اسی کا نام ایڈجسٹمنٹ ہے آپ مسقط میں کامیاب ہیں۔ کیوں کہ آپ وہاں کے ملکی حالات سے مطابقت کرکے رہ رہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان یہاں کے حالات سے مطابقت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے وہ ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے ہندو جلوس نکالتے ہیں۔ اس قسم کے جلوس کارواج عرب میں یا مغربی ملکوں میں نہیں ہے۔ ہندوؤں کا جلوس جب مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے تو مسلمان مشتعل ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنا جلوس دوسرے روٹ سے لے جاؤ۔ یہ حالات سے مطابقت نہ کرنا ہے۔ جس طرح آپ مسقط میں وہاں کے بادشاہ کے خلاف نہیں بولتے۔ اسی طرح ہندوستان میں ہندو جلوس کے خلاف نہ بولئے ۔ اس کے بعد یہاں آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ۷ فروری ۱۹۸۹ء جم کاربٹ (Jim Corbett) مشہور انگریز شکاری ہیں۔ وہ صرف شکاری نہیں تھا، بلکہ شیر کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس کا غیر معمولی ماہر بن چکا تھا۔ وہ جنگل میں کسی مقام پر ہو اور شیر کی آواز سنائی دے تو وہ درمیانی فاصلہ کا نہایت صحیح اندازہ کر لیتا تھا۔ اور اس کے بعد اس کی دوسری آواز سن کر جان لیتا تھا کہ شیر کس رفتار سے کس رخ پر جارہا ہے۔ کمایوں (Kumaon) پہاڑیوں میں ایک شیر فی مردم خور ہوگئی اس نے مجموعی طور پر ۲۳۳ آدمیوں کی جان لی۔ اس تعداد میں بہت سے شکاری بھی ہیں۔ آخر کار جم کاربٹ نے اس کو ہلاک کیا۔ اسی کے نام پر کمایوں میں "کاربٹ پارک" بنایا گیا ہے۔ جم کاربٹ نے شیر کے گہرے مطالعہ کے بعد ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب میں وہ شیر کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader