آغازِ کلام
Urdu book, p. 360
By Maulana Wahiduddin Khan
کی طرف سے بہت سے تلخ تجربات ہوئے جن کا ذکر انھوں نے اپنے مضمون مطبوعہ ہندوستان ٹائمس (۲۱ اگست، ۱۹۹۰) میں کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں منافقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب کسی کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔ مثلاً ایک بار ایک مرکزی وزیر نے مجھ سے نہایت عمدہ باتیں کیں اور چند ہی دن بعد مرکز سے یہ حکم موصول ہو کہ یا تو استعفا دو، ورنہ برخواست کر دیا جائے گا۔ انھوں نے اپنے انگریزی مضمون میں اردو کا یہ شعر نقل کیا ہے: آگے کانٹوں سے ڈر لگتا تھا اب پھولوں سے ڈر لگتا ہے جس ملک میں گورنر کا یہ حال ہو، وہاں عام انسان کی حالت کیا ہوگی، اسی واقعہ سے اس کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ ۲۹ اگست، ۱۹۹۰ ٹائمس آف انڈیا (۲۹ اگست، ۱۹۹۰) میں ایک خبر عمان کے اخبار (Jordan Times) کے حوالے سے چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یکم اگست اور ۲ اگست ۱۹۹۰ کی درمیانی رات کو ۱۲ بجکر منٹ پر کویت کے امیر شیخ الصباح کے محل میں یہ خبر پہنچی کہ عراق کی فوجیں کویت میں داخل ہو گئی ہیں۔ امیر کویت نے اپنے محکمہ خفیہ سے پوچھا تو وہ اس پوزیشن میں نہ تھا کہ اس خبر کی تصدیق یا تردید کر سکے۔ مصری ذرائع نے کہا کہ حملہ اتنا طاقت ور ہے کہ اس کا مقابلہ کویت کے لئے ممکن نہیں۔ چنانچہ الصباح فیملی کے افراد کاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ سعودی عرب اور بحرین پہنچ گئے۔ یہ خبر اگر صحیح ہے تو بے حد تعجب خیز ہے۔ کویت ایک انتہائی چھوٹا ملک ہے۔ تاہم اس کے پاس دولت کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ اگر ان کا انٹلی جنس کا محکمہ اتنا کمزور تھا تو آخر وہ کس لئے قائم تھا اور وہ کیا کر رہا تھا۔ ۳۰ اگست، ۱۹۹۰ پاکستانی اخبارات نہایت فخر کے ساتھ مسٹر محمد علی جناح کا یہ جملہ نقل کرتے ہیں۔ انھوں نے ۴ جولائی ۱۹۴۳ کو ایک پریس کانفرنس میں غیر مسلم صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا : جب آپ جمہوریت کی باتیں کرتے ہیں تو مجھے شبہ ہوتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ ہم نے جمہوریت تیرہ سو سال پہلے سیکھ لی تھی۔ (نوائے وقت، ۱۳ اگست، ۱۹۹۰)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader