Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 361

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان بننے کے بعد "اسلامی جمہوریت" ایک دن کے لئے بھی پاکستان میں قائم نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اس طرح قائم نہیں ہو سکتی کہ تیرہ سو سال پہلے کی تاریخ اپنے آپ آکر یہاں نافذ ہو جائے ۔ پاکستان میں جمہوریت کو وہاں کے موجودہ مسلم باشندے نافذ کریں گے اور پاکستان کے موجودہ باشندے اپنے زوال کے بدترین دور میں ہیں۔ وہ ایک مردہ قوم ہیں، اور مردہ قوم کبھی کوئی زندہ کارنامہ انجام نہیں دیتی۔ ۳۱ اگست ۱۹۹۰ء لیوس ویلس (Lewis Wallace) ۱۸۲۷ء میں پیدا ہوا ۔ ۱۹۰۵ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک قول ہے کہ کسی آدمی کی سب سے زیادہ آزمائش کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ بہت زیادہ خوش قسمتی اس کے حصہ میں آ گئی ہو: A man is never so on trial as in the moment of excessive good-fortune. مشکل حالات میں آدمی کے لئے بہکنے کا اندیشہ نسبتاً کم رہتا ہے ۔ لیکن اگر آدمی کو بڑی کامیابی حاصل ہو جائے تو بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ بہکنے سے بچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی اچھی چیز بہت زیادہ دیر تک کسی ایک شخص یا ایک گروہ کے پاس نہ رہے ۔ جوانی کچھ دنوں کے بعد ڈھل جاتی ہے ۔ دولت کبھی آتی ہے اور کبھی چلی جاتی ہے۔ سیاسی اقتدار بار بار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جاتا رہتا ہے۔ کبھی کسی ایک کا دور دورہ رہتا ہے اور کبھی کسی دوسرے کا۔ یہ بگاڑ کے خلاف ایک فطری چیک ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ لوگ ایک حد کے اندر رہیں۔ لوگ بہت زیادہ بگڑنے نہ پائیں۔ مزید یہ کہ یہ صورتِ حال آدمی کی ذاتی اصلاح کے لئے بہت زیادہ معاون ہے۔ حالات کی تبدیلی بار بار لوگوں کو سبق دیتی ہے، اس سے ہر آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت واقعی کو جانے ۔ وہ اپنے آپ کو سرکشی اور غرور سے بچائے ۔ وہ اس حقیقت سے آشنا ہو کہ اس دنیا میں حالات کا سرا اس کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اختیار اور عظمت کا مالک صرف خدا ہے۔ اس کے سوا کسی اور کے لئے نہ حقیقی عظمت ہے اور نہ حقیقی اختیار۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page