آغازِ کلام
Urdu book, p. 362
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم ستمبر ۱۹۹۰ ڈاکٹر شمس الآفاق صاحب نے کہا کہ عراق کے صدام حسین نے ایران کے ساتھ اپنے تمام جھگڑے ختم کر دیئے ہیں ۔ پانچ ہزار ایرانی قیدیوں کو واپس کر دیا۔ زیر قبضہ ایرانی علاقوں کو خالی کر دیا۔ شط العرب کے بارہ میں اپنا مطالبہ ختم کر دیا۔ صدام حسین کا یہ اقدام صلح حدیبیہ والی تکنیک کی مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدام حسین کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ کویت ، سعودی عرب اور دوسرے ممالک پر قبضہ کر کے ایک عظیم مسلم سلطنت بنائے اور پھر یہودیوں اور عیسائیوں سے مسلم دنیا کو پاک کرے۔ یہ صرف ڈاکٹر آفاق صاحب کی بات نہیں۔ آجکل مسلم دنیا کے بیشتر لوگ اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ چنانچہ ملوک کو چھوڑ کر بیشتر مسلمان صدام حسین کے حامی ہیں۔ وہ صرف امریکہ سے کہہ رہے ہیں کہ تم عرب دنیا سے اپنی فوجیں واپس لے جائو۔ وہ صدام حسین سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ کویت سے اپنی فوجیں واپس بلاتے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کویت پر صدام حسین کے قبضہ کو مسلمان قدیم سلطنت بغداد کے احیا کی طرف اقدام سمجھتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسلمان کس قدر خوش فہم ہیں۔ مسلمان اپنی خوش نہی میں بے وقوفی کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ دور عباس کی سلطنت بغداد کا احیار حقائق تاریخی کو جمع کرنے سے ہوگا ، وہ کویت پر قبضہ کرنے سے نہیں ہوگا۔ صدام حسین کے موجودہ اقدام سے مسلم دنیا کو کچھ ملنے والا نہیں۔ البتہ اس کو جو کچھ حاصل ہے ، اس کا ایک حصہ وہ ضرور کھو دیں گے۔ ۲ ستمبر ۱۹۹۰ مولانا انیس لقمان ندوی نے بتایا کہ مائیگائوں میں ایک انگریزی تعلیم یافتہ ہیں۔ انگریزی میں ان کا اچھا مطالعہ ہے گروہ فکر کے اعتبار سے ایک سیکولر آدمی ہیں۔ انیس لقمان صاحب نے ان کو میری کچھ کتابیں پڑھنے کے لئے دیں۔ پڑھنے کے بعد انھوں نے کہا کہ میں برٹرینڈ رسل کے انداز تحریر سے بہت متاثر تھا۔ میرا خیال تھا کہ اس انداز پر لکھنے والا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ مگر یہ کتابیں عین اسی انداز پر لکھی گئی ہیں۔ میں نے کہا کہ برٹرینڈ رسل اگرچہ ایک ملحد آدمی تھا۔ مگر اس کی تحریر میں ایک خاص صفت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader