آغازِ کلام
Urdu book, p. 363
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتی ہے جو نہ انگریزی میں کسی کے یہاں ہے اور نہ اردو یا عربی میں۔ اس اسلوب کو ایک لفظ میں ترتیب حقائق (Arrangement of facts) کہہ سکتے ہیں۔ عام طور پر لوگ بیانیہ انداز میں لکھتے ہیں جس کو بیان حقائق کہا جاسکتا ہے۔ ترتیب حقائق کے انداز میں لکھنے والا میرے علم میں برٹرینڈ رسل کے سوا اور کوئی نہیں۔ میرا اندازِ ترتیب حقائق کا انداز ہوتا ہے۔ مگر یہ برٹرینڈ رسل کی تقلید میں نہیں ہے۔ یہ میری فطرت اور کثرت مطالعہ سے بنا ہے۔ ۳ ستمبر ۱۹۹۰ مدن کمیشن کی رپورٹ میں پسماندہ ذاتوں کے لئے گورنمنٹ سروسوں میں ۲۷ فی صد رزرویشن کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے خلاف آج کل تشدد دانہ تحریک چل رہی ہے۔ کچھ مسلمان وزیر اعظم وی پی سنگھ سے ملے اور کہا کہ مسلمانوں کو بھی سروسوں میں رزرویشن دیا جانا چاہئے، کیوں کہ خود سرکاری جائزہ کے مطابق، مسلمان اس ملک میں اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے سب سے زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں۔ وی پی سنگھ نے اس مانگ کو قابل لحاظ قرار دیا۔ اس پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پریزیڈنٹ مسٹر ایل کے ایڈوانی نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۳ ستمبر ۱۹۹۰) کی رپورٹ کے مطابق، انھوں نے کہا کہ مسلم اقلیت کو رزرویشن دینا ملک کو دوبارہ تقسیم کی اجازت دینے کے ہم معنی ہوگا : It would invite unwanted second partition of the country. اسی طرح مسٹر گری لال جین نے اس سے پہلے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کے مطالبہ کو ماننا ہندوؤں کے لئے دوسری شکست (second defeat) قبول کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اور ہندو کبھی اس کے لئے راضی نہیں ہو سکتے۔ یہ ایک بے حد نازک صورتحال ہے۔ پاکستانی سیاست کے نتیجہ میں اس ملک میں جو صورت حال بنی ہے، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان اگر کسی معاملہ میں شدید ہوتے ہیں تو فوراً ہند و کے ذہن میں پچھلی تاریخ تازہ ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ پارٹیشن پسند مسلمان اب سیکنڈ پارٹیشن کا منصوبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader