Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 364

By Maulana Wahiduddin Khan

بنا رہے ہیں۔ مسلمانوں کی اس قسم کی کامیابی کو ہندو ” سیکنڈ ڈیفیٹ“ کے ہم معنی سمجھنے لگتا ہے۔ اس صورتِ حال کا واحد علاج یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں مطالبہ کی سیاست بالکل ختم کردیں ۔ وہ محنت کی سیاست اختیار کریں۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۰ میری زندگی کی داستان بڑی عجیب ہے۔ میری پیدائش کے صرف پانچ سال بعد میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد میں پورے معنوں میں یتیم ہو گیا۔ اس وقت سے اب تک میری زندگی مسلسل محرومی کی زندگی ہے۔ حتیٰ کہ مجھے خیال ہوتا ہے کہ شاید دنیا میں کوئی شخص نہیں جس کو اتنا زیادہ محرومی کا تجربہ ہوا ہو۔ ایسا کیوں ہوا۔ میرے ان اعصاب شکن تجربات میں ایک پہلو ایسا ہے جس میں اس کا ایک جواب ملتا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا کی ہر محرومی مجھ کو آخرت کی محرومی کی یاد دلاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے اندر کوئی چوکی دار بیٹھا ہوا ہے جو ہر تجربہ میں مجھ کو آخرت کی تصویر دکھاتا رہتا ہے۔ جو میرے ہر تجربہ کو اخروی تجربہ میں کنورٹ کر دیتا ہے۔ یہ میرے مزاج کی ایک انوکھی صفت ہے جو میں نے اپنے علم کے مطابق کسی کے اندر نہیں پائی۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر بے شمار کام جاری ہیں۔ مگر ” اعلانِ آخرت“ کا اہم ترین کام ساری دنیا میں کہیں نہیں ہو رہا تھا۔ لوگ دنیا کی چھوٹی محرومیوں میں اتنے گم ہیں کہ انھیں آخرت کی بڑی محرومی کی خبر نہیں۔ مجھ کو دنیا کی محرومیوں میں شاید اس لئے ڈالا گیا تاکہ میں اس حقیقت کا شدت کے ساتھ احساس کروں اور لوگوں کے سامنے اس کا منذر بنوں۔ مجھ کو چھوٹی محرومی کا اس لئے تجربہ کرایا گیا تاکہ میں لوگوں کو بڑی محرومی کی چیتاونی دے سکوں۔ ۵ ستمبر ۱۹۹۰ عرب لیگ ۱۹۴۵ میں قائم ہوئی ۔ اس وقت اس کے دو درجن ممبر ہیں۔ مگر عرب ملکوں کے باہمی اختلاف نے عرب لیگ کو عملاً بے معنی بنا دیا ہے۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو عراق نے کویت پر حملہ کر دیا اور اس پر قبضہ کرکے اس کو عراق میں شامل کر دیا۔ اس مسئلہ پر ۱۰ اگست کو تہران میں عرب ملکوں کی کانفرنس ہوئی۔ مگر کوئی متفقہ فیصلہ نہ ہو سکا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page