آغازِ کلام
Urdu book, p. 365
By Maulana Wahiduddin Khan
عرب لیگ کے چارٹر کے مطابق ، وہی فیصلہ عرب لیگ کا فیصلہ کہا جائے گا جو تمام وابستہ عرب ملکوں کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ معرکے کے اجلاس میں ۱۲ ملکوں نے مذمت کی قرارداد پر دستخط کی اور بقیہ ملک مختلف وجوہ سے اس پر دستخط نہ کرسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب برادری اس کھلی ہوئی جارحیت کے خلاف لفظی مذمت پر بھی متفق نہ ہوسکی۔ عملی طور پر عراق کا مقابلہ کرنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ امریکہ اور روس اور چین کے بعد صدام حسین کے پاس اس وقت سب سے بڑی فوج موجود ہے۔ اگر امریکہ اپنے حلیفوں کو لے کر مقابلہ پر نہ آگیا ہوتا تو اب تک صدام حسین کئی عرب ملکوں کو نگل چکے ہوتے۔ حتی کہ خود سعودی عرب کو بھی۔ ۱۹۹۰ ستمبر ۶ آج کی خبروں میں سے ایک خبر ، ٹائمز آف انڈیا ، ۶ ستمبر ۱۹۹۰ کے مطابق یہ ہے کہ پی ایل او کے چیئرمین مسٹر یاسر عرفات کے ذاتی جہاز کو ابوظبی کے ہوائی اڈہ پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی حالاں کہ اس کا پٹرول بہت کم ہوگیا تھا : The PLO Chairman, Mr. Yasser Arafat's personal jet was refused permission to land at Abu Dhabi although it was running short of fuel. عراق کے حکمراں صدام حسین نے ۲ اگست کو کویت پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد جب ساری دنیا کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ عراق فوراً کویت کو خالی کرے تو صدام حسین نے بیان دیا کہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرے تو میں بھی کویت کو خالی کر دوں گا۔ اس بیان کے بعد تمام فلسطینی صدام حسین کے طرف دار ہوگئے۔ ہر ملک میں فلسطینیوں نے صدام کی موافقیت میں مظاہرے شروع کر دئے۔ فلسطینیوں کے اس رویہ کی بنا پر عرب ممالک ان سے سخت بیزار ہوگئے ہیں۔ یاسر عرفات سعودی عرب کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر سعودی ذمہ داروں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ فلسطینی اس سے پہلے اپنی نادان سیاست کے نتیجہ میں مصر ، شام ، اردن ، لبنان، ہر جگہ سے نکالے گئے تھے۔ تاہم اخلاقی ہمدردی پھر بھی پورے عالم عرب میں انھیں حاصل تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader