Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 366

By Maulana Wahiduddin Khan

اور بے شمار مالی تعاون انھیں حاصل ہورہا تھا ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے موجودہ رویہ کی بنا پر وہ عرب دنیا کی اخلاقی ہمدردی بھی کھو دیں گے۔ پاکستان کے ایک صاحب تشریف لائے۔ گفتگو کے دوران پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کا ذکر آیا۔ انھوں نے ان کی اسلامیت کی تعریف کی۔ میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ آپ کے ارشاد کے مطابق جب وہ اتنے اسلامی تھے تو انھوں نے اپنا وعدہ کیوں نہیں پورا کیا۔ انھوں نے جب فوجی بغاوت کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو انھوں نے کہا کہ میں صرف ریفرمی کے طور پر حکومت میں آیا ہوں۔ الیکشن کرانے کے بعد میں دوبارہ فوجی بیرک میں واپس چلا جاؤں گا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ۹۰ دن میں لانہ نا پاکستان میں الیکشن کرائے جائیں گے۔ مگر انھوں نے الیکشن نہیں کرایا اور ساڑھے گیارہ سال تک حکومت پر قابض رہے۔ یہاں تک کہ فضائی حادثہ میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستانی بزرگ نے کہا کہ اصل بات یہ ہوئی کہ پاکستان کی تمام جماعتوں (بشمول جماعت اسلامی) نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ الیکشن ملتوی کر دیں اور پہلے لیڈروں کا احتساب کریں۔ اس لئے عمومی دباؤ کے تحت انھوں نے الیکشن ملتوی کر دیا۔ میں نے کہا کہ مگر یہی ضیاء الحق صاحب تھے جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو معافی دینے کے معاملہ میں ساری دنیا کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ پاکستانی بزرگ نے کہا کہ وہ ایک مجرم کو سزا دینے کا معاملہ تھا۔ اور خدا کا حکم ہے کہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا دو۔ میں نے کہا کہ جس خدا نے مجرم کو سزا دینے کا حکم دیا ہے اسی خدا نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ وعدہ کو ضرور پورا کرو۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ضیاء الحق صاحب نے ایک معاملہ میں خدا کے حکم کو پورا کیا اور دوسرے معاملہ میں خدا کے حکم کو نظر انداز کر دیا۔ ۸ ستمبر ۱۹۹۰ جناب سرفراز نواز صاحب ( پیدائش ۱۹۵۹) ۴ ستمبر کو ہمارے دفتر میں آئے۔ وہ مغل سرائے کے رہنے والے ہیں۔ وہ وہاں بزنس کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے یہاں کا ایک واقعہ بتایا، جس میں بڑا سبق ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page