Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 367

By Maulana Wahiduddin Khan

غالباً ۱۹۸ کا واقعہ ہے۔ مغل سرائے (اسلام پور) کے مدرسہ میں تعطیل تھی۔ کچھ مسلمان لڑکے اس کے میدان میں کھیل رہے تھے۔ اتفاق سے وہاں ایک ہریجن لڑکی آگئی۔ مسلمان لڑکے اس کو پکڑ کر اندر لے گئے اور زہر دستی اس کے ساتھ بدکاری کی۔ اس فعل کا اصل مجرم ایک مسلمان لڑکا تھا۔ لڑکی روتی پیٹتی ہندو محلہ میں گئی۔ آناً فاناً خبر پھیل گئی۔ اس کے بعد ہندو تقریباً ۵۰۰ کی تعداد میں جمع ہو کر مسلمانوں کے محلہ (اسلام پور) میں گھس آئے۔ وہ غصہ میں تھے اور مسلمانوں کو جلانا پھونکنا چاہتے تھے۔ سرفراز نواز صاحب اور وہاں کے کئی دوسرے لوگ کئی سال سے الرسالہ کا پابندی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کی کوشش سے یہ ہو کہ مسلمان باہر نہیں آئے۔ ہندو مجمع اگرچہ اشتعال انگیز نعرہ لگا رہا تھا۔ مگر مسلمان اعتراض کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے گھروں میں خاموش رہے۔ البتہ فوری طور پر انھوں نے یہ کیا کہ ایک مقامی ہندو لیڈر منی لال گپتا (سابق گرام پردھان) کو خبر کر دی۔ وہ تھوڑی دیر میں آگیا۔ آتے ہی وہ مجمع کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ وہ مجمع کو پیچھے ہٹا کر ایک میدان میں لے گئے اور وہاں اس کے سامنے تقریر شروع کر دی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایک مسلمان لڑکے نے شرارت کی ہے تو کیا تم اس کی سزا سارے مسلمانوں کو دینا چاہتے ہو۔ منی لال گپتا نے اسی کے ساتھ یہ کیا کہ فورا پولیس کو خبر کر دی کہ یہاں ہندوؤں کا مجمع اکٹھا ہے اور فساد کا سخت اندیشہ ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد پولیس آگئی اس نے مجمع سے منتشر ہونے کو کہا۔ جب وہ منتشر نہیں ہوئے تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کر دیا۔ اس کے بعد وہ لوگ بھاگ گئے۔ اس طرح کے مواقع پر بہترین عقل مندی یہ ہے کہ مسئلہ کو ہندومسلم مسئلہ نہ بننے دیا جائے۔ بلکہ اس کو ہندو اور پولیس کا مسئلہ بنا دیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو ہر جگہ وہی ہو گا جو مغل سرائے میں ہوا۔ ۹ ستمبر ۱۹۹۰ ہندوستان ٹائمنس (۹ ستمبر) میں سابق وزیر اعظم شری راجیو گاندھی کا ایک بیان چھپا ہے۔ انھوں نے کہا کہ (میری حکومت کے زمانہ) میں بوفورس کے معاملہ میں جس بدعنوانی کا الزام لگایا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page