آغازِ کلام
Urdu book, p. 368
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا ہے اس کی مقدار ۷۰۷ کروڑ روپیہ تھی۔ مگر موجودہ وی پی سنگھ کی حکومت کے زمانہ میں اکسائز ڈیوٹی کے سلسلہ میں جو اسکینڈل ہوا ہے اس میں ۳۵۰ کروڑ روپیہ خورد برد کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ میں نے تو صرف ۷۰۷ کروڑ روپیہ کی رشوت لی تھی۔ اور تم نے ۳۵۰ کروڑ روپیہ کی رشوت لے رکھی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کی سیاست کتنی پست اور کتنی گندی ہو چکی ہے۔ ۱۰ ستمبر ۱۹۹۰ سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف اسلام آباد (پاکستان) میں ۱۲ فروری ۱۹۸۹ء کو ایک جلوس نکلا تھا۔ جلوس نے تشدد کا مظاہرہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں پولیس نے فائرنگ کی۔ فائرنگ میں سات مسلمان مارے گئے اور سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ اس فائرنگ کی تحقیقات کے لئے پاکستانی حکومت نے ایک کمیشن مقرر کیا تھا۔ اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے نوائے وقت ۲۸ اگست ۱۹۹۰ میں یہ ادارتی نوٹ شائع ہوا ہے: کمیشن نے بالکل درست کہا ہے کہ اسلام کے خلاف ایسی کتاب کی اشاعت پر غم و غصہ کا اظہار مسلمانوں کا حق تھا۔ کمیشن کے اس فیصلہ کے بعد یہ ضروری ہے کہ انتظامی عہدوں پر فائز جن افراد نے فائرنگ کے احکام دئے تھے ان کا احتساب کیا جائے ۔ بالخصوص انتظامیہ سے متعلق افراد کا جنھوں نے صبر و تحمل کے بجائے زیادتی کی۔ انتظامیہ جلوس کے موقع پر دانش مندی کا مظاہرہ کرتی تو حالات پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ (صفحہ ۱۰) اخبار کے ایڈیٹر کے پاس دو معیار ہیں۔ ایک مسلمانوں کے لئے اور دوسرا انتظامیہ کے لئے۔ انتظامیہ سے تو اس کا مطالبہ ہے کہ وہ صبر اور دانش مندی سے کام لیں۔ مگر مسلمانوں کے لئے نہ صبر کی ضرورت ہے اور نہ دانش مندی کی۔ انتظامیہ کو ناپنے کے لئے اس کے یہاں ایک بات ہے اور مسلمانوں کو ناپنے کے لئے دوسرا بات۔ ۱۱ ستمبر ۱۹۹۰ بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور (۱۹۴۱-۱۸۶۱) نے اپنے بارہ میں کہا تھا___ ساری عمر پیا کے تاروں کو درست کرنے میں بیت گئی۔ اتنم گیت جو میں گانا چاہتا تھا وہ میں نہ گا۔ ٹیگور نے یہ بات کسی شاعرانہ مفہوم میں کہی ہوگی۔ مگر اسی قسم کی ایک بات میری زبان سے بے اختیار خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader