Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 369

By Maulana Wahiduddin Khan

کی نسبت سے نکل جاتی ہے۔ میری زبان پر بے تابانہ یہ الفاظ آ جاتے ہیں کہ خدایا، میں تیری حمد کا ترانہ گانا چاہتا تھا مگر میں نہ نگا سکا۔ میرا عجز، میرے مقیم حالات، دنیا کی محدودیت اور الفاظ کی بے مانگی، اس میں حائل ہوگئے کہ میں تیری حمد کا ترانہ گاؤں۔ اب تو مجھے جنت کے باغوں کا ایک پنچھی بنا دے۔ میں جنت کے باغوں میں اڑوں اور ابد تک تیری حمد کے ترانے گاتا رہوں۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۹۰ ڈاکٹر انور عباس امروہہ (یوپی) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے ہمدرد طبی کالج سے بی یو ایم ایس (BUMS) کا کورس کیا اور اس کے بعد اپنے وطن امروہہ میں مطلب شروع کیا۔ ان کے کلنک کے سامنے بورڈ پر ڈا کٹر انور عباس، بی یوایم ایس“ لکھا ہوا تھا۔ شروع میں ان کا مطلب چل نہیں رہا تھا۔ اس کے بعد ان کے بھائی نے یہ کیا کہ مطلب کے سامنے ایک بینر لگا دیا۔ اس پر موٹے حرفوں میں لکھا ہوا تھا" ڈاکٹر دہلی والے : اس کے بعد ان کا مطلب تیزی سے چل پڑا ۔ وہ شہر میں " دہلی والے ڈاکٹر " کے نام سے مشہور ہو گئے ۔ ان کے یہاں مریضوں کی بھیڑ لگنے لگی۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام پسند بولی کا مطلب کیا ہے۔ آجکل کی دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی عام پسند کی بولی بولنا جانتا ہو۔ آجکل کے تمام مقبول لیڈر اسی تدبیر کو اختیار کر کے مقبول بنے ہوئے ہیں۔ مگر مجھے عام پسند بولی بولنا بالکل نہیں آتا۔ میں لاجک اور ریزن کی زبان میں کلام کرتا ہوں ، اور آجکل کی دنیا میں جو زبان سب سے کم سمجھی جاتی ہے وہ یہی لاجک اور ریزن کی زبان ہے۔ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۰ رابطہ العالم اسلامی کا ہفت روزہ اخبار العالم اسلامی مکہ کا شمارہ ۱۴ صفر ۱۴۱۱ھ مطابق ۳ ستمبر ۱۹۹۰ء) آج کی ڈاک سے ملا ۔ اس کے صفحہ اول کی خبروں میں سے ایک خبر کی سرخی یہ ہے کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے کویت پر عراق کے جارحانہ حملہ کی مذمت کی ہے۔ (الشیخ ابو الحسن الندوي يدين العدوان العراقي على الكويت)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page