Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

عظمت کا اعتراف ان لفظوں میں کرتا ہے ــــ فراخ دل شریف آدمی، بے حساب دلیری والا : Large hearted gentleman with boundless courage جم کاربٹ نے جو کچھ شیر کے بارے میں کہا ہے، وہ ہی ایک بہادر انسان کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ بہادر انسان کی عین وہی صفت ہوتی ہے جو بہادر شیر کے اندر پیدائشی طور پر پائی جاتی ہے۔ ۱۸ فروری ۱۹۸۹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اپنے شمارہ ۸ فروری ۱۹۸۹ میں ’شیطانی آیات‘ کے مصنف سلمان رشدی کے معاملہ پر ایڈیٹوریل لکھا ہے جس کا عنوان ہے : satanic fall-out اس ایڈیٹوریل میں ایران کے آیات اللہ خمینی کے اس ”فتویٰ“ پر تنقید کی گئی ہے کہ سلمان رشدی کو مسلمان قتل کر دیں۔ اخبار کے ایڈیٹر دلیپ پینڈ گاؤں دکر نے لکھا ہے کہ ایک فائنین نیشنل جو فارن لینڈ میں رہتا ہو، اس کے خلاف اس قسم کی کارروائی دہشت گردی (Terrorism) کے ہم معنی ہے : اسی کے ساتھ ایڈیٹر نے ایک بہت قیمتی بات لکھی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ــــ اسلام کو آیات اللہ کی جامد، غیر روادار اور جارحانہ تعبیر دین کے ہم معنی قرار نہیں دیا جا سکتا : Islam cannot be equated with the Ayatollah’s rigid, intolerant aggressive interpretation of it. اس کا مطلب یہ ہے کہ خمینیّت الگ چیز ہے اور اسلام الگ چیز ہے۔ بلاشبہ حقیقت واقعہ یہی ہے۔ گرو ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے ایڈیٹر کی زبان سے اس حقیقت کا اعتراف بتاتا ہے کہ اس ملک میں اگر چہ متعصب لوگ بستے ہیں تو اس کے ساتھ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو تعصب اور فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر سوچتے ہیں۔ یہ روشن پہلو ہمارے لئے امید اور اعتماد کا خزانہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page