Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 370

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا ہے کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے ملک فہد بن عبدالعزیز کے نام ایک ٹیلیگرام روانہ کیا ہے۔ اس میں انھوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور اس پر اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے کہ عراق نے کویت پر حملہ کر کے اس کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد از جلد عراق اپنے قبضہ کو ختم کر کے کویت سے واپس چلا جائے گا: پانچ سال پہلے ٹھیک اسی قسم کا واقعہ ہمارے خلاف حیدر آباد میں ہوا۔ ہاشم القاسمی صاحب نے وہاں ہمارے مرکز کی عمارت پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس معاملہ میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کو توجہ دلائی گئی تو انھوں نے اس کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا۔ بلکہ عملاً ہاشم القاسمی صاحب کے سرپرست بن گئے۔ وہ خود ایک استقبالیہ پروگرام میں شرکت کے لئے مغصوب عمارت میں گئے اور اس طرح بالواسطہ طور پر اس غصب کی تائید فرمائی۔ دوسری طرف عراق کے قبضہ غاصبانہ کے معاملہ میں وہ سعودی کنگ کو از خود مذمت کا ٹیلی گرام بھیج رہے ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے کن جذبات کے تحت حیدر آباد کے غاصبانہ قبضہ کی مذمت نہیں کی اور کن جذبات کے تحت وہ کویت کے قبضہ غاصبانہ پر مذمت کا ٹیلی گرام بھیج رہے ہیں، اس کو کوئی بھی انسان سمجھ سکتا ہے۔ پھر کیا خدا ایک عام انسان سے بھی کم عقل رکھتا ہے جو دونوں کی حقیقت کو نہ سمجھے۔ ۱۴ ستمبر ۱۹۹۰ ۱۱ ستمبر کو تمام اخباروں کے پہلے صفحہ کی ایک نمایاں سرخی یہ تھی ــــ صدام کی طرف سے تیسری دنیا کے ملکوں کو مفت تیل کی پیش کش: Saddam offers free oil to Third World صدام حسین کی طرف سے بغداد ٹیلی ویژن پر یہ پڑھا گیا کہ موجودہ بحران کی وجہ سے تیسری دنیا کے ملکوں کو تیل کی پریشانی ہو رہی ہے۔ ہم پیش کش کر رہے ہیں کہ تیسری دنیا کے ممالک ہمارے یہاں سے جس قسم کا اور جتنا تیل چاہیں، مفت لے جائیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ خود اپنا ٹینکر لیکر آئیں، اور اپنے ٹینکر میں تیل لے جائیں۔ اگلے دن واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ترجمان نے بجاطور پر کہا کہ یہ صدام حسین کی ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page