آغازِ کلام
Urdu book, p. 371
By Maulana Wahiduddin Khan
چال (gimmick) ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انھیں ایک بیرل تیل بھی کسی کو مفت دنیا نہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق، امریکہ اور دوسرے ملکوں نے عراق کی جو ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس میں تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں۔ تیل کا کوئی جہاز نہ عراق کی طرف جا سکتا اور نہ عراق سے آسکتا۔ اسی طرح اس سے پہلے صدام حسین نے اعلان کیا کہ ہم کویت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں، بشرطیکہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے۔ یہاں بھی صدام حسین جانتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کو خالی نہیں کرے گا۔ اور نہ امریکہ ایسا کرے گا کہ وہ اس مقصد کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ صدام حسین کا اصل مقصد یہ تھا کہ مفت تیل کی پیش کش سے وہ تیسری دنیا کے لوگوں کے درمیان خوش نام ہو جائیں اور کویت کے مسئلہ کو اسرائیل کے مسئلہ سے جوڑ کر عربوں اور فلسطینیوں کی حمایت حاصل کر لیں۔ اور اس مقصد میں وہ کم از کم وقتی طور پر کامیاب ہوگئے۔ ۱۵ ستمبر ۱۹۹۰ حکیم محمد ابراہیم صاحب (پیدائش ۱۹۰۳) جے پور کے رہنے والے ہیں۔ آزادی کی تحریک کے زمانہ میں انھوں نے جواہر لال نہرو اور ابوالکلام آزاد کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ ہندوستانی مسلمانوں کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری اس زبوں حالی کا سبب یہ ہے کہ ہندوستان میں ڈیمو کریسی کا نظام رائج کیا گیا۔ اس کے تحت ہم اقلیت میں آگئے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیمو کریسی کا نظام ان ملکوں کے لئے درست ہے جہاں صرف ایک مذہب کے لوگ رہتے ہوں۔ ہندوستان میں چھ مذہب (ہندوازم، اسلام، مسیحیت، سکھ ازم، بدھ ازم، پارسیت) کے ماننے والے ہیں۔ یہاں کے لئے صحیح نظام یہ ہے کہ ایک سپریم کونسل بنائی جائے جس میں ہر مذہب کا ایک ایک نما ئندہ ہو۔ ان چھ ممبروں کو اعلی اختیار حاصل ہو۔ اس طرح اس ملک میں برابری کا نظام قائم ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس تجویز کو وزیر اعظم وغیرہ کے پاس بھیجنے والا ہوں۔ یہ تجویز سن کر مجھے حیرت ہوئی کہ مسلمان بھی کتنے زیادہ نادان ہیں۔ یہ نادانی صرف حکیم ابراہیم تک محدود نہیں ہے۔ اس میں مولا نا حسین احمد مدنی اور مولا نا ابوالکلام آزاد جیسے اکابر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader