Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 372

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی شریک ہیں ۔ ان حضرات نے مدنی فارمولا اور آزاد فارمولا کے نام سے ۱۹۴۷ء سے پہلے جو تجویز پیش کی ، وہ بھی با اعتبار نوعیت یہی تھی ۔ اس میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ مرکزی اسمبلی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ممبران برابر کی تعداد میں ہوں ۔ ان حضرات نے اپنی خوش فہمی کی بنا پر اس سادہ سی بات کو نہیں سمجھا کہ جو چیز زندگی کی تشکیل کرتی ہے وہ لفظی تجویزیں نہیں ہیں بلکہ سماجی حقیقتیں اور تاریخی طاقتیں ہیں ۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۰ مولانا اکبر الدین قاسمی (مجلس علمی ، حیدر آباد) سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بتایا کہ حیدر آباد میں ایک محمد بہار الدین صاحب ہیں ۔ وہ ریلوے گارڈ سے ریٹائر ہوئے ہیں اور یاقوت پورہ حیدر آباد میں رہتے ہیں ۔ وہ مولانا ابو الحسن علی ندوی کے معتقد اور مرید ہیں ۔ انھوں نے مولانا علی میاں کا یہ قول میرے بارہ میں نقل کیا کہ "اگر ہم نے کچھ غلطی کی تھی تو وحید الدین خاں ہم سے اس کا بدلہ لیتے ، وہ پوری قوم سے کیوں اس کا بدلہ لے رہے ہیں ۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ مولانا علی میاں کے والد محترم حکیم سید عبدالحی صاحب کی کتاب " ہندوستان اسلامی عہد " ۱۹۳۷ء میں ندوہ سے چھاپی گئی ۔ اس پر مولانا علی میاں کا مبسوط مقدمہ ہے جس میں مولانا نے کتاب کے اندر اجات کی تصویب فرمائی ہے ۔ اس کتاب میں " بابری مسجد ایودھیا " کے ذیل میں لکھا ہوا ہے کہ " کہا جاتا ہے کہ سیتا کا یہاں ایک مندر تھا ، اسی جگہ با بر نے ۹۲۳ ھ میں مسجد تعمیر کی ؛ (۱۲۱) یہ کتاب جو ۱۹۳۷ء میں چھپی تھی ، کہیں سے مثرارن شوری کو مل گئی ۔ اس نے انڈین ایکسپریس میں اپنے مضمون میں اس کا حوالہ دیا ۔ اس کے بعد ہندوؤں نے اس کو استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ مثلاً رام جنم بھومی مکتی سیمیتی کے نائب صدر دائود یال کھنہ نے کہا کہ " لکھنؤ کے دار العلوم ندوۃ العلماء سے ایک کتاب ہندوستان اسلامی عہد میں کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔ اس کے بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ بابری مسجد اسی جگہ تعمیر کی گئی جہاں رام مندر تھا ۔ (قومی آواز ۲ ستمبر ۱۹۹۰) مولانا علی میاں اور ان کے حلقہ کا خیال ہے کہ یہ کتاب میں نے ہندوؤں کو فراہم کی ہے ۔ یہ سراسر بہتان ہے ۔ میں نے مولانا اکبر الدین قاسمی سے کہا کہ قرآن کے حکم کے مطابق ، مولانا علی میاں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page