آغازِ کلام
Urdu book, p. 373
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہتے تھا کہ اتنا بڑا الزام لگانے سے پہلے وہ اس کی تحقیق کرتے۔ بلا تحقیق اس قسم کا الزام لگانا سراسر نا جائز ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس معاملہ میں مولانا علی میاں سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر وہ اپنے کو بر حق سمجھتے ہیں تو مجھ سے مباہلہ کریں۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۰ ۱۶ ستمبر کی رات کو دل میں خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک چوڑا راستہ ہے۔ اس کے دونوں طرف تقریباً قد آدم دیواریں بنی ہوئی ہیں۔ یہ راستہ اور دیوار اپنے طرز کے اعتبار سے ویسا ہی ہے جیسا ریلوے اسٹیشن پر دو طرفہ اونچے پلیٹ فارم کے درمیان گزرنے والا راستہ ہوتا ہے۔ میں اور ثانی اثنین بائیں طرف کنارے کنارے چل رہے ہیں۔ میں آگے ہوں اور ثانی اثنین میرے پیچھے اتنے میں سامنے ایک بہت بڑا ہاتھی نظر آیا۔ وہ دوسرے کنارے سے چلتا ہوا ہماری طرف آرہا تھا۔ ہاتھی جب قریب آگیا تو وہ اس طرح گھوما کہ اس کا سونڈ دیوار کی طرف تھا اور اس کا پچھلا حصہ راستہ کی طرف۔ اس وقت میرے ذہن میں آیا کہ ہاتھی پیچھے کی طرف سے آکر آدمی کو اس طرح دباتا ہے کہ آدمی ہاتھی کے جسم اور دیوار کے درمیان کچل کر رہ جاتا ہے۔ اس وقت ثانی اثنین کی آواز میرے کان میں آئی کہ ہاتھی ہم لوگوں کو دبانا چاہتا ہے۔ یہ سن کر میں نے ایک لمحہ کے لئے سوچا اور پھر بائیں طرف دیوار پر چڑھنے لگا۔ چڑھنے میں تھوڑی سی زحمت ہوئی۔ مگر ایک منٹ کے اندر میں دیوار کے اوپر چڑھ گیا ۔ غالباً ثانی اثنین نے بھی ایسا ہی کیا۔ ہم دونوں ہاتھی کی زد سے باہر آگئے (خواب ختم) اس خواب کی تعبیر سوچ رہا تھا کہ آج ہی انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا میں ہاتھی پر ایک تصویر پر مضمون دیکھا۔ اس میں ہاتھی کو سب سے بڑا دودھیا جانور(Largest mammal on land) بتایا گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے پاس جو آخری سب سے بڑا حربہ ہے، اس کو وہ میرے خلاف استعمال کرے گا۔ اور اگر چہ اس وقت کوئی میری مدد کرنے والا نہ ہوگا، مگر انشاء اللہ اس کا حربہ کارگر نہیں ہوگا، اور میں اللہ کی مدد سے اس کا نشانہ بننے سے محفوظ رہوں گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader