آغازِ کلام
Urdu book, p. 374
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۸ستمبر ۱۹۹۰ ایک مسلمان لیڈر سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی مصیبت آپ لوگوں کے اخباری بیانات ہیں۔ جب بھی کوئی ہندومسلم معاملہ پیدا ہوتا ہے، فوراً آپ لوگ ایک تند و تیز بیان تیار کر کے اخباروں میں شائع کر دیتے ہیں۔ ان بیانوں سے مسلمانوں کا ذہن خراب ہوتا ہے۔ اگر آپ لوگ اس قسم کا بیان نہ دیں تو مسلمانوں کی فطرت ان کی رہنمائی کرے گی۔ مگر آپ لوگوں کے بیانات مسلمانوں کو غلط رہنمائی دے کر انہیں فطرت کے راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ مسلمان لیڈر نے کہا: "ایسے معاملات میں اگر ہم چپ رہیں تو ہم عوام سے کٹ جائیں گے۔" میں نے کہا کہ اگر آپ چپ رہتے تو آپ خدا سے جڑے جاتے۔ مگر جب آپ بولے تو آپ عوام سے تو جڑے مگر آپ خدا سے کٹ گئے۔ ۱۹ ستمبر ۱۹۹۰ ایک مقام پر ہندومسلم فساد ہو گیا۔ وہاں کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ فساد کیسے شروع ہوا۔ اور اس کا ابتدائی سبب کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوؤں کا جلوس مسلمان محلہ سے گزرا وہ نعرہ لگا رہا تھا' بابر کی سنتان ، تم سب جاؤ قبرستان' اس پر مسلمان مشتعل ہو گئے اور ہندوؤں پر پتھر پھینکے۔ اس کے بعد فساد شروع ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اصل مسئلہ ہندوؤں کا اشتعال انگیز نعرہ نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر احتساب خویش کا مادہ ختم ہو گیا ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر احتساب خویش کی صفت ہوتی تو وہ سوچتے کہ ہندو ان کے خلاف جو بات کہہ رہے ہیں، وہ بطور واقعہ بالکل درست ہے۔ ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد اس ملک میں ہزاروں مسجدوں کے ساتھ اسی قسم کا قصہ پیش آیا ہے جو اجودھیا کی بابری مسجد کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ہریانہ، راجستھان، پنجاب میں آج بھی کوئی شخص جا کر اس کو دیکھ سکتا ہے۔ مگر ان ہزاروں مسجدوں کی بے حرمتی اور انہدام پر مسلمانوں میں کبھی کوئی پر شور تحریک نہیں اٹھی۔ اور اجودھیا کی مسجد کی بے حرمتی پر سارے ہندوستان کے مسلمانوں میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ کیوں کہ اس کے ساتھ شہنشاہ بابر کا نام جڑا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader