Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 375

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا مطلب یہ ہے کہ "خدائی" مسجد سے مسلمانوں کو وہ لگاڈ نہیں ہے جو ان کو بابری مسجد سے ہے۔ پھر بابر تو ایک فانی انسان تھا وہ قبر میں چلا گیا۔ اس لئے غیر مسلم اگر مسلمانوں کے بارے میں مذکورہ تجربہ کے بعد ایسا کہتے ہیں کہ بابر قبر میں گیا، تم بھی قبر میں جاؤ تو اس میں ان کی کیا غلطی ہے۔ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۰ پاکستان کے اخبار میں پڑھاکہ وہاں جنرل محمد ضیا الحق کی یاد میں جلسہ ہوا تو اس موقع پر نعرہ لگایا گیا: "مرد مومن مرد حق ، ضیا الحق ، ضیاء الحق"۔ دوسرا جلسہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی یاد میں منعقد ہوا۔ وہاں نعرہ لگایا گیا: سیدی مرشدی، مودودی مودودی۔ اس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ جس طرح آج ضیا الحق اور ابوالاعلیٰ مودودی کی وفات ہوئی ہے ، اسی طرح صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں بھی ہزاروں لوگوں کی وفات ہوئی۔ مگر ان لوگوں نے کبھی اس قسم کے نعرے نہیں لگائے۔ سوچتے ہوئے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ صحابہ و تابعین خدا میں جینے والے لوگ تھے۔ وہ لوگ ہمیشہ خدا کی یاد میں مشغول رہتے تھے۔ اس کے برعکس موجودہ مسلمان اپنی شخصیتوں میں جیتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی شخصیتوں کے نعرے لگارہے ہیں۔ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ ایک صاحب تشریف لائے۔ انھوں نے چند سوالات کئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں سورہ النساء میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان لانے والو ایمان لاؤ ( آیت ۱۳۶ )، اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی تشریح قرآن کی دوسری آیت کر رہی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطاعت کی۔ (الحجرات ۱۴) مذکورہ آیت سورہ النساء میں ہے جو کہ مدنی سورہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ مکہ کے دور میں حالات بہت سخت تھے۔ وہاں کفر و شرک کا اتنا زیادہ دباؤ تھا کہ وہی شخص ایمان قبول کرتا تھاجو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرتا تھا کہ اسے ایمان والی زندگی اختیار کرنا ہے۔ اس لئے ایمان لاتے ہی فوراً وہ با عمل مومن بن جاتا تھا۔ مگر مدنی دور میں حالات مختلف ہوگئے ۔ اب فضا اتنی بدلی کہ لوگوں کے اوپر خود اسلام کا دباؤ پڑنے لگا۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے حالات کے دباؤ کے تحت اسلام کا کلمہ پڑھ لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page