آغازِ کلام
Urdu book, p. 376
By Maulana Wahiduddin Khan
گمراہی کی زندگیوں میں اس طرح اسلام نہیں آیا جس طرح مکی دور کے مسلمانوں میں آیا تھا۔ چنانچہ ان سے کہا گیا کہ جب تم نے ایمان قبول کیا ہے تو اب ایمان کے عملی تقاضے بھی پورے کرو۔ ایک شخص کا ایک لڑکا ہو مگر وہ اپنے لڑکے کے معاملہ میں پدرانہ حقوق ادا نہ کر رہا ہو تو اس معاملہ میں اس کو توجہ دلانے کا ایک اسلوب یہ ہے کہ آپ اس سے کہیں کہ تم باپ ہو تو باپ کے فرائض اور حقوق ادا کرو۔ دوسرا اسلوب یہ ہے کہ اس کو مختصر کر کے یوں کہیں کہ جب تم باپ ہو تو باپ بن کر رہو۔ یہی معاملہ مذکورہ آیت کا ہے۔ کہنے کا ایک اسلوب یہ ہے کہ اے ایمان لانے والو، ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرو۔ دوسرا اسلوب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اے ایمان والو، ایمان والے بنو۔ یہاں یہی دوسرا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۰ فیروز آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ فیروز آباد میں قدیم زمانہ سے چوڑیوں کی صنعت ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے یہاں کی صنعت پر مسلمان چھائے ہوئے تھے۔ اب وہاں ہندو چھائے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ فرق کیسے ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا ایک خاص سبب مسلمانوں کا اسراف ہے۔ مسلمان جو کماتا ہے اس کو خرچ کر ڈالاتا ہے۔ وہ بچا کر نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس ہندو اپنی کمائی میں سے تھوڑا خرچ کرتا ہے اور زیادہ حصہ بچا کر رکھتا ہے۔ قدیم زمانہ میں پوری صنعت دستکاری پر مبنی تھی، اس لئے مسلمان اپنے اسراف کے باوجود صنعت پر قابض رہے۔ موجودہ زمانہ مشینی زمانہ ہے۔ اب صنعت کو ترقی دینے کے لئے ہر جزو میں زیادہ رقم درکار ہوتی ہے۔ ہندو کے پاس پس انداز کیا ہوا سرمایہ تھا، اس نے سرمایہ لگا کر صنعت کو بڑھالیا۔ مسلمان کے پاس سرمایہ نہیں تھا، اس لئے وہ مشینی مقابلہ میں پیچھے ہوگیا۔ اسراف سے بچنا اور اعتدال کے ساتھ خرچ کرنا اصلًا ایک عبادت اور ایک دینی عمل ہے۔ لیکن اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو وہ دیکھیں گے کہ اسی دینی عمل میں ان کا دنیوی فائدہ بھی چھپا ہوا ہے۔ پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت (۲۳ ستمبر ۱۹۹۰) میں مسٹر محمد علی جناح کی ایک تقریر کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader