آغازِ کلام
Urdu book, p. 377
By Maulana Wahiduddin Khan
اقتباس نقل کیا گیا ہے۔ یہ تقریر انہوں نے ۱۹۳۹ میں عربک کالج دہلی میں کی تھی۔ اقتباس یہ ہے: تمام دشواریوں کے باوجود مجھے یقین ہے کہ مسلمان کسی دوسرے فرقہ کی بہ نسبت بہتر سیاسی دماغ رکھتے ہیں۔ سیاسی شعور مسلمانوں کے خون میں ملا ہوا ہے، وہ ان کی رگوں اور شریانوں میں دوڑ رہا ہے۔ اور اسلام کی تاریخی عظمت ان کے سینوں میں دھڑک رہی ہے: مسٹر جناح کی یہ بات ایک تبدیلی کے ساتھ صحیح ہے۔ مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور تو موجود نہیں، البتہ حکومت پسندی ضرور ران میں مبالغہ آمیز حد تک موجود ہے۔ اور مسلمانوں کا یہی بگڑا ہوا مزاج موجودہ زمانہ میں ان کی تمام مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۹۰ میرا خط معروف اصطلاح کے مطابق پختہ نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ میرا اندازہ یہ ہے کہ جب میں کوئی مضمون لکھتا ہوں تو میں اس میں بہت کاٹ چھانٹ کرتا ہوں۔ میں سمجھتا تھا کہ جس شخص کی تحریر پختہ نہ ہو وہ غالباً زیادہ کاٹتا ہے۔ مگر یہ مفروضہ درست نہیں۔ لندن سے ایک کتاب چھپی ہے اس کا نام ہے (Writers at work) اس کا ساتواں سلسلہ (Seventh series) میرے سامنے ہے۔ ۳۳۰ صفحہ کی اس کتاب میں انگریزی کے ۱۳ مصنفین کے ادبی حالات درج ہیں۔ ہر شخص کے حالات کے ساتھ اس کے خط کا نمونہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ صفحہ ۱۵۱ پر لارکن (Philip Larkin) کا نمونہ تحریر درج ہے۔ اس نمونہ کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ لارکن کا خط نہایت پختہ تھا، مگر وہ بہت زیادہ کاٹتا تھا۔ اس کے جس صفحہ کی تصویر کتاب میں شامل کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اس نے آدھے صفحہ میں ایک مضمون لکھا پھر اس کی تصحیح کی۔ پھر اس عبارت کو کاٹ کر از سر نو بقیہ صفحہ پر نئی عبارت لکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ خط کی پختگی یا نا پختگی کا کاٹ چھانٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ ۲۵ ستمبر ۱۹۹۰ ۲۴ ستمبر کے تحت میں نے ایک کتاب کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب سے مزید ایک بات معلوم ہوئی۔ میں نے اپنی کتاب (کارِ روانِ ملت) میں پروفیسر پاکنس کا ایک اقتباس نقل کیا ہے۔ اس میں ایک عورت کا قصہ ہے جس نے ایک لکچر ہال میں کہا تھا کہ زمین کچھوے کی پیٹھ پر ٹھہری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader