Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 378

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئی ہے۔ پروفیسر ہاکنس نے پکڑ دینے والے کا نام، برٹرینڈ رسل اور مقام کا نام لندن لکھا ہے۔ مگر اس کتاب میں آرتھر کوئلر کے حوالے سے پکڑ دینے والا کا نام اس کے بجائے ٹامس گولڈ (Thomas Gold) بتایا گیا ہے۔ یہ برطانی سائنس داں تھا اور اس نے یہ لکچر امریکہ میں دیا تھا۔ (صفحہ ۳۶) ۲۶ ستمبر ۱۹۹۰ جمعیتہ الدعوۃ الاسلامیہ کے تحت ہونے والی چوتھی مؤتمر عام کے سلسلہ میں طرابلس میں تھا۔ ہندوستان سے چند دوسرے حضرات بھی اس مؤتمر میں شریک تھے۔ حیدر آباد کے مسٹر ایم خان نے ۲۶ ستمبر کے اجلاس میں انگریزی میں ایک تقریر کی۔ اس میں انھوں نے بابری مسجد کا مسئلہ اٹھایا اور حکومت ہند کو اور ہندوؤں کو کنڈم کیا۔ میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ اسٹیج پر اس کا مظاہرہ ہو کہ کسی ملک کا وفد آپس میں مختلف الرائے ہے۔ اس لئے میں اسٹیج پر خود اپنے ملک کے کسی آدمی کے خلاف بولنا پسند نہیں کرتا۔ مگر اجلاس کے بعد میں مسٹر خان سے ملا۔ اس وقت ان کے ساتھ مسٹر اب الدیِن خان (تھرڈ کا نسپٹ وکیلی) بھی تھے، میں نے باب الدیِن صاحب کی موجودگی میں ان پر سخت تنقید کی۔ میں نے کہا کہ اپنے ملک کے نازک مسائل کو باہر کے پلیٹ فارم پر اٹھانا بنیادی طور پر غلط اور ایک سطحی فعل ہے۔ مزید یہ کہ آپ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفانہ باتوں کا تو ذکر کیا۔ مگر یوپی کے چیف منسٹر ملائم سنگھ کا بالکل ذکر نہیں کیا جو اس وقت فرقہ پرست ہندوؤں کے خلاف آہنی دیوار بنا ہوا ہے۔ ملائم سنگھ نے بار بار کھلے لفظوں میں اعلان کیا ہے کہ میں عدالتی فیصلہ کے خلاف اس معاملہ میں کسی کو کچھ نہیں کرنے دوں گا۔ جو لوگ بھی بابری مسجد کو ڈھانے کے لئے آئیں گے، ان کو میں سختی سے کچل دوں گا، وغیرہ۔ انھوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا جو مخالفانہ کردار ہے وہ تو میٹر آف فیکٹ ہے۔ پھر اس کا کیوں نہ ذکر کیا جائے، میں نے کہا کہ چیف منسٹر ملائم سنگھ کا اعلان بھی تو میٹر آف فیکٹ ہے ، پھر آپ نے اس کا اعلان کیوں نہیں کیا۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والوں کا یہی طریقہ ہے کہ وہ ایک پہلو کا ذکر کرتے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page