Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 379

By Maulana Wahiduddin Khan

اور دوسرا پہلو چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی اس غلط رہنمائی نے مسلمانوں کو حقیقت پسندانہ طرز سے آخری حد تک دور کر دیا ہے۔ "جمعية الدعوة الاسلامیہ (طراَبلس)" کے تحت ایک ہفتہ وار عربی پرچہ الدعوۃ کے نام سے نکلتا ہے۔ میرے سامنے اس کا شمارہ ۲۶ ستمبر ۱۹۹۰ء ہے۔ اس میں جمعیۃ الدعوۃ کے ذمہ دار کی ایک تقریر ہے جو انھوں نے ایک اسلامی مؤتمر کے اجلاس میں کی۔ اس تقریر کے ایک جملہ کو بطور عنوان جلی حرفوں میں اس طرح لکھا گیا ہے : "انانَسیردائماً فى طريق الحق رهم ہمیشہ حق کے راستہ پر چلتے ہیں۔) موجودہ زمانہ کے مسلم زعما سب سے زیادہ جس چیز سے خالی ہو گئے ہیں وہ حساسیت ہے۔ مذکورہ جملہ صرف ایک بے حس قلب ہی سے نکل سکتا ہے۔ حساس قلب ایسے موقع پر کہے گا کہ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری مدد کرے اور ہم کو ہمیشہ حق کے راستہ پر چلائے۔ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ نوائے وقت ( ۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ء) میں میاں محمد شفیع کی یادداشت چھپی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : "حافظ عبد المجید قابلیت کے دریا تھے۔ ان کی گر اسب اتنی زبردست تھی کہ ایک لحظہ میں معاملہ کی تہہ تک پہنچ جاتے۔ وہ بالآخر ترقی کرتے کرتے (برطانوی) پنجاب کے چیف سیکرٹری مقرر ہوئے۔ لیکن ایک معمولی غلطی برطانوی قانون کی زد میں آگئے اور ان کا شاندار کیریر ختم ہو گیا۔ آج پاکستان میں ، لوگ لاکھوں اور کروڑوں روپیہ ہڑپ کر جاتے ہیں اور ان کا بال بیکا نہیں ہوتا۔ لیکن حافظ عبد المجید جیسے عظیم پبلک سرونٹ نے لاہور سے راولپنڈی کے سفر میں کرایہ ریل کے بجائے ہوائی جہاز کا وصول کر لیا تھا، اور اسی جرم کی بنا پر انھیں ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ (صفحہ ۸) "برطانوی پاکستان" میں اخلاق کا معیار بلند تھا، اور "اسلامی پاکستان" میں اخلاق کا معیار آخری حد تک گر گیا۔ اس گراوٹ کی سب سے بڑی ذمہ داری ان نام نہاد مسلم رہنماؤں پر ہے جنھوں نے اسلام کو سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کیا۔ ان لوگوں نے اپنی جھوٹی تحریکوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page