Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

اور آخر وقت تک مرکزی کیبینٹ میں وزیر رہے۔ مصطفیٰ کامل قدوائی موصوف کے قریبی عزیزوں میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک مضمون (قومی آواز ۱۹ فروری ۱۹۸۹) میں لکھا ہے کہ: ” جب ہندوستان آزاد ہو رہا تھا اور رفیع صاحب گھر آئے تو ہم بھائیوں نے ان سے پوچھا کہ اب تو لڑائی ختم ہو گئی۔ اب آپ کیا کریں گے۔ انھوں نے جواب میں کہا لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ ہم اب آپس میں لڑیں گے نیا ہندوستان بنانے کے لئے۔“ ”آزادی ہندوستان‘ کے بارہ میں رفیع احمد قدوائی کی یہ بات نہایت صحیح ثابت ہوئی۔ تاہم یہ صرف ہندوستان کا معاملہ نہیں۔ یہی ہر ملک اور ہر ادارہ کا معاملہ ہے۔ لوگ ایک ’نظام‘ کو غلط بتا کر اس کے خلاف اٹھتے ہیں اور جب یہ نظام ٹوٹ جاتا ہے تو نیا نظام بنانے کے لئے دوبارہ آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑائی ختم ہوتی ہے بے نفسی سے، اور بے نفسی کا کہیں وجود نہیں۔ ۲۰ فروری ۱۹۸۹ امریکہ کے ۴۱ ویں پریذیڈنٹ جارج بش (George H.W. Bush) پر ٹائم میگزین (۳۰ جنوری ۱۹۸۹) نے ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی۔ ٹائم کے شمارہ ۲۰ فروری ۱۹۸۹ میں اس کے بارہ میں خطوط شائع ہوئے ہیں۔ تمام خطوط چھوٹے چھوٹے ہیں۔ ایک خط صرف ایک لائن کا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: Kind words, gentle words, but still only words. اس کے مقابلہ میں اردو اخبارات میں چھپنے والے خطوط کو دیکھئے۔ وہ عام طور پر اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ میرے جیسا آدمی مشکل ان کو پڑھ سکتا ہے۔ ٹائم کے ایک سطر کے خط میں پوری بات موجود ہے اور اردو اخبار کے لمبے لمبے خط میں بھی تلاش کرنے کے بعد کوئی بات نہیں ملتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page