Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 380

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ذریعہ مسلمانوں کی نفسیات کو بگاڑ دیا۔ انہوں نے اسلام کو عمل“ کا عنوان بنانے کے بجائے مطالبہ کا عنوان بنا دیا۔ یہی سب سے بڑا سبب ہے جس کی بنا پر ہم یہ عجیب و غریب منظر دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کی آوازوں سے فضا گونج رہی ہے اور افراد کی زندگیوں میں اسلامی کردار کا کوئی وجود نہیں ۔ ۲۹ ستمبر ۱۹۹۰ پاکستان بننے کے بعد سید ابو الاعلیٰ مودودی پاکستان لاہو رچلے گئے۔ وہاں انہوں نے قانونِ اسلامی کے نفاذ کی مہم چلائی ۔ پاکستان میں ان کی تقریروں کا انداز کیا ہوتا تھا، اس کا اندازہ ایک اقتباس سے ہوتا ہے ۔ انھوں نے اپنی ایک انتخابی تقریر میں کہا: ”یہ ملک مارکس اور لینن اور ماؤ کی امت کا نہیں، یہ محمد عربی کی امت کا ملک ہے اور جب تک ہمارے سر ہماری گردنوں پر ومطائم ہیں اس وقت تک اس ملک میں اسلام کے سوا کوئی دوسرا نظام نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ (وفاق ، لاہور، ۲۹ ستمبر، ۱۹۹۰ء) بظاہر یہ تعمیر اسلام کی تقریر معلوم ہوتی ہے ۔ مگر حقیقتاً یہ تخریبِ اسلام کی تقریر ہے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی اگر پاکستان میں یہ تحریک چلاتے کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ، اس لئے یہاں کے ہر باشندے کو اپنی زندگی میں اسلام کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے تو اس سے لوگوں کے اندر ایمان کی روشنی ابھرتی ۔ ان کے اندر اسلامی عبادت اور اسلامی اخلاق کا داعیہ پیدا ہوتا۔ لوگ اپنے آپ کو مومن اور مسلم بنانے کی فکر میں لگ جاتے ۔ مگر انہوں نے عمل کا رخ تمام تر حکومت کی طرف کر دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اور دوسرے تمام مسلمان بس حکمرانوں سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ پاکستانی مسلمان تعمیر کے بجائے تخریب کے راستہ پر چل پڑے ۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۰ وقف بورڈ کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ ہندوستان میں اس وقت ۲ لاکھ سے زیادہ مسجدیں ہیں۔ مسلمانوں نے پچھلے دس برسوں میں بابری مسجد کے مسئلہ پر بے حساب وقت اور پیسہ لگایا ہے ، اگر وہ ایسا کہتے کہ بابری مسجد کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کر دیتے اور بقیہ ۳ لاکھ مسجدوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page