Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 381

By Maulana Wahiduddin Khan

انقلاب آجاتا ہے۔ لیکن یہ "اگر" ایسا ہے جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر عمل کسی جذبہ کے تحت ہوتا ہے۔ بابری مسجد کے مسئلہ پر جو تحریک چلی اس کا محرک مثبت نہیں بلکہ منفی تھا۔ یعنی اس کے پیچھے حقیقتہً ہندونفرت کا جذبہ تھا۔ اور ہند ونفرت کا جذ بہ چونکہ مسلمانوں میں نہایت افراط کے ساتھ موجود ہے۔ اس لئے انہوں نے اس مسئلہ پر دھواں دھار تحریک چلا ڈالی۔ اس کے برعکس مسجدوں کی حالت کو سدھارنے کے لئے دین سے محبت کا جذ بہ درکار ہے، اور وہ موجودہ مسلمانوں میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ یکم اکتوبر ۱۹۹۰ء آج میں لیبیا (طراپلس) میں تھا۔ وہاں میرا قیام فندق باب البحر میں تھا۔ صبح کو نیچے اترا ٹوریسپشن (استقبالیہ) کے وسیع ہال کی دیواروں پر مختلف نعرے لکھے ہوئے نظر آئے۔ ایک نعرہ ان الفاظ میں لکھا ہوا تھا: (الثائر الاممی معمر القذافی فی صانع عصر الجماهيرية) (عالمی انقلابی لیڈر معمر قذافی، جمہوریتوں کا دور پیدا کرنے والا)۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلم قائدین کا حال ہے۔ ان قائدوں نے یا ان کے معتقدوں نے اپنے گھر کی دیواروں پر اپنے لئے "نئے دور کا خالق" کے الفاظ لکھ رکھے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ملک یا ایک گھر میں بھی کوئی نیا دور لانے والے نہ بن سکے۔ ہر آدمی اس کام کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے جس کو اس نے نہیں کیا ( يحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا ) ۲ اکتوبر ۱۹۹۰ء لیبیا میں اس وقت تقریباً چالیس ہزار ہندوستانی ہیں۔ ان میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔ طراپلس میں مقیم مسلمانوں نے ۲ اکتوبر کو ”میلاد النبی“ کا جلسہ کیا۔ اس میں مجھے تقریر کی دعوت دی گئی ۔ وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر سادہ انداز میں ایک تقریر کی۔ کلیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ کے ہال میں اجتماع تھا۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی قابل لحاظ تعداد میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page