Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 382

By Maulana Wahiduddin Khan

موجود تھے۔ ڈاکٹر حیات اسماعیل نے بتایا کہ ہم لوگوں نے طے کیا ہے کہ طرابلس میں مقیم ہندستانی سفیر مستری آرگلیانی کو اجتماع میں بلایا جائے گر ان سے تقریر نہ کرائی جائے ۔ میں نے کہا کہ یہ طریقہ صحیح نہیں ۔ ہندستانی سفیر اپنے عہدہ کے اعتبار سے یہاں انڈین کمیونٹی کا ہیڈ ہے۔ اس کو بلانا اور اس کو اسٹیج پر کھڑا نہ کرنا اس کے لئے توہین کے ہم معنی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ آج گاندھی جینتی کا دن ہے ۔ کہیں وہ گاندھی کے بارہ میں بولنے لگے یا ہند و دھرم پر تقریر شروع کر دے۔ میں نے کہا کہ یہ اندیشہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں ایک بار اٹل بہاری باجپئی کو مسلمانوں کے ایک اجتماع میں بلایا گیا ۔ اٹل بہاری باجپئی نے وہاں بالکل اسلامی قسم کی باتیں کہیں ۔ بعد کو کسی نے پوچھا کہ آپ تو مسلمانوں کے اور اسلام کے مخالف مشہور ہیں۔ پھر آپ نے ایسی تقریر کیسے کی ۔ اٹل بہاری باجپئی نے کہا : جی ، آدمی نہیں بولتا ، پلیٹ فارم بولاتا ہے۔ میرے کہنے پر ان لوگوں نے مستر گلیانی کو تقریر کے لئے کھڑا کیا۔ مستر گلیانی اسٹیج پر آئے تو سب سے پہلے انھوں نے" السلام علیکم " کہا۔ اس کے بعد پوری تقریر سیرت کے موضوع پر کی، حتی کہ آخر میں کہا کہ " محمد صاحب کے دکھائے ہوئے راستہ پر ساری دنیا چلے گی "۔ ۳ اکتوبر ۱۹۹۰ء طرابلس میں میری ملاقات محمد سلیمان الفت آئد سے ہوئی ۔ وہ ایم اے ہیں اور اس وقت طرابلس کی جامعۃ الفاتح میں استاذ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں م قاہرہ گیا۔ وہاں جامعۃ القاہرہ کے ایک پروفیسر سے میری ملاقات ہوئی ۔ وہ وہاں عربی ادب کے استاد ہیں ۔ میرا ذکر آیا تو مصری پروفیسر نے کہا کہ وحید الدین خاں نے دین کی ایک تعبیر کی ہے جو موروثی اور قطب سے مختلف ہے ۔ مگر وحید الدین خاں ایک ہندی ہیں۔ ان کی عربی دانی پر مجھے اعتماد نہیں ، اس لئے میں ان کی تعبیر کو بھی نہیں مانتا۔ محمد سلیمان الفت آئد نے ان سے کہا کہ میں نے وحید الدین خاں کی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page