Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 383

By Maulana Wahiduddin Khan

سے کئی بار میری ملاقات بھی ہوئی ہے۔ وہ عربی زبان بخوبی جانتے ہیں اور پورے معنوں میں عربی عالم ہیں۔ کسی نے اب تک ان کی کتابوں میں زبان کی غلطی کی نشاندہی نہیں کی۔ مصری پروفیسر نے کہا کہ عربی دانی کا اصل معیار شعر ہے۔ آپ ان سے عربی اشعار کی بابت پوچھئے اور پھر دیکھئے کہ وہ عربی داں ہیں یا نہیں۔ میں نے کہا کہ استغفراللہ، لوگوں نے کیسے کیسے خود ساختہ معیار بنا رکھے ہیں۔ اگر اس معیار کو حتمی سمجھا جائے تو نعوذ باللہ پیغمبر اسلام بھی اس معیار پر پورے نہیں اتریں گے۔ کیونکہ قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شعر کا علم نہیں دیا۔ (یٰس (۶۹) روایات میں آتا ہے آپ کو اشعار یاد نہیں رہتے تھے اور شعر کو پڑھنے میں آپ اکثر غلطی کر جاتے تھے۔ لوگوں نے تضیح کی تو آپ نے فرمایا کہ میں شاعر نہیں ہوں اور نہ وہ میرے لئے سزا وار ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے، تفسیر ابن کثیر ۹/۳ ، ۷۸-۵۷ ، التفسیر المظهری ۸/ ۹۷-۹۶) ۴ اکتوبر ۱۹۹۰ ایک صاحب سے مسلمانوں کے موجودہ حالات پر گفت گو ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو سنگین حالات کا سامنا ہے، اس کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں کے سطحی رہنماؤں پر ہے۔ ان نام نہاد رہنماؤں نے سب سے بڑا جرم یہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو خارجی احتجاج کے راستہ پر ڈال دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ تھی کہ انہیں داخلی تعمیر کے رخ پر سرگرم کیا جائے۔ ہندوستان کے سطحی رہنماؤں کا یہ حال ہے کہ جب بھی کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو فوراً وہ ”نکمی انتظامیہ “ کا لفظ بول کر مسلمانوں کی سوچ کا رخ حکومت کی طرف کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں نام نہاد اسلام پسند وہاں کی تمام خرابیوں کا ذمہ "غیر صالح حکمرانوں" کو ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ وسیع تر عالم اسلام کو دیکھئے تو "انٹر نیشنل اسٹیج" پر بولنے والے تمام لوگ صليبيوں اور صهيونيوں اور استعماری طاقتوں کے ظلم کے خلاف چیخ پکار کرنے میں مشغول ہیں۔ مسلمانوں کے لئے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ اپنی تمام طاقت داخلی تعمیر کے محاذ پر لگائیں۔ مگر مذکورہ بالا قسم کی رہنماؤں نے ان کی توجہ داخلی محاذ سے ہٹا دی۔ اور تمام مسلمانوں کے ذہن کو خارج کی طرف پھیر دیا۔ میرے نزدیک آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہی غلط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page