Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 384

By Maulana Wahiduddin Khan

رہنمائی ہے۔ تہران سے ایک عربی ہفت روزہ نکلتا ہے۔ اس کا نام الشمید الدولى شہید انٹر نیشنل ہے ۔ اس کی پیشانی پر یہ فقرہ لکھا ہوا ہوتا ہے: صوت الثورة الاسلامية (اسلامی انقلاب کی آواز)، اس اخبار کے شمارہ ۶ ستمبر ۱۹۹۰ء میں صفحہ اول پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی مسلم امت (الشعب المسلم في المنطقة) ”خادم الحرمین الشریفین“ کی مخالف ہو گئی ہے۔ اس کے ثبوت میں یہ واقعہ درج کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ایک بدو نے امریکی فوج میں کام کرنے والی ایک عورت سے کہا کہ تم نیم برہنہ رہتی ہو حالاں کہ تم کو پردہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ (دعا مجندة امريكية شبه عارية الى تقوى الله والالتزام بالحجاب)، امریکی عورت نے ترجمان کی مدد سے بدو کو جواب دیا کہ کیا تم کو شرم نہیں آتی کہ تم اور فہد اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور تم نے امریکی عورتوں کو بلایا تاکہ وہ تمہارے ملک کا بچاؤ کریں۔ (الا تخجل انت وفهد حينما تجلسان في بيوتكما وتسمحان للنساء الأميركيات بالدفاع عن بلادكما) جواب کا یہ انداز ایرانیوں کا ہے، وہ امریکیوں کا انداز کلام نہیں۔ اور اگر بالفرض یہ واقعہ صحیح ہو تو یہ بدترین جنزلائزیشن ہے۔ ایک بدو اور ایک امریکی عورت کی گفتگو کو پوری پوری قوم پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۰ء ”اسلامی جمہوریہ“ ایران کے اخبارات آجکل خلیجی بحران کے تذکرہ سے بھرے رہتے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ ”خادم الحرمین الشریفین“ نے کافر امریکیوں کو عرب کی مقدس سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت کیوں دی۔ یہ وہی چیز ہے جس کو کلمة حق اريد بها الباطل کہا گیا ہے۔ ایران کے اخبارات بظاہر ایک حق بات کہہ رہے ہیں، مگر اس کلمہ حق کے پیچھے ایک باطل مقصد چھپا ہوا ہے۔ وہ دراصل اس بحران سے فائدہ اٹھا کر سعودی عرب کو مطعون کر رہے ہیں جس کو وہ اپنا دشمن فرض کئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page