آغازِ کلام
Urdu book, p. 385
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے ہیں۔ اگر فی الواقع ان کے سامنے حق ہوتا تو وہ سب سے پہلے صدام حسین کی جارحیت کی مذمت کرتے، جس نے سعودی عرب کو مجبور کیا کہ وہ امریکہ سے مدد مانگے۔ اس صورت حال کی اصل ذمہ داری صدام حسین پر آتی ہے۔ مگر ایرانی اخبارات صدام حسین کے فعل پر خاموش ہیں۔ اور امریکہ کا حوالہ دے کر سعودی عرب کی مذمت کر رہے ہیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو عملی سطح پر اسلامی انقلاب برپا کرنے کے مدعی ہیں، حالاں کہ لفظی متکلم کے درجہ میں بھی وہ ابھی تک اسلام کو اپنا دین نہ بنا سکے۔ ۷ اکتوبر ۱۹۹۰ء انقرہ (ترکی) کے حوالے سے مکہ کے "اخبار العالم الاسلامی" شمارہ ۲۴ ستمبر ۱۹۹۰ میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے ؛ ۵۹۲ جريدة يومية واكثر من ٣ آلاف مجلة في العالم الاسلامی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی دنیا میں اس وقت ۵۹۲ روزانہ اخبارات نکلتے ہیں اور ۳۳۳۹ مجلات شائع ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد پاکستان میں ہے جہاں ۸۴ مجلات نکلتے ہیں اور ۱۱۹ روزانہ اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائیجیریا، مغرب، ترکی، ایران، مالدیپ وغیرہ کے اعداد وشمار دئے گئے ہیں۔ برونائی کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ وہ اگرچہ نہایت دولت مند ملک ہے مگر وہاں سے کوئی بھی اخبار یا مجلہ شائع نہیں ہوتا۔ اسی طرح گامبیا، غینیا، جزر القمر سے بھی نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اسلامی دنیا کا سب سے قدیم اخبار قاہرہ کا الاہرام ہے۔ وہ ۱۸۷۵ء میں شروع ہوا۔ وہ تقریبا ایک ملین کی تعداد میں چھپتا ہے۔ مگر اس میں ہندوستان کے مسلم اخبارات وجرائد کا کوئی ذکر نہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندستان معروف سیاسی اصطلاح کے مطابق "مسلم ملک" نہیں۔ میرے نزدیک یہ تقسیم بالکل غلط ہے۔ دنیا کے تمام مسلمان "امت مسلمہ" کا حصہ ہیں، خواہ وہ سیاسی اعتبار سے کسی مسلم ملک میں بستے ہوں یا غیر مسلم ملک میں۔ تاریخ کی کتابیں بتاتی ہیں کہ مدینہ کے ۹۵ نام ہیں۔ مثلاً ــــــــ یثرب، طیبہ، دارالابرار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader