Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 386

By Maulana Wahiduddin Khan

سیدۃ البلاد، دارالسلام، المحرمہ، المحروسہ، وغیرہ۔ ایک عربی مجلہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ درج ہیں: قالت كتب السيرة والتاريخ ان للمدينة المنورة ۹۵ اسماً واشارت الى ان ذلك يدل على عظمة المسمى وفضله (سیرت اور تاریخ کی کتابیں کہتی ہیں کہ مدینہ منورہ کے ۹۵ نام ہیں۔ اس سے شہر مدینہ کی عظمت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے) ناموں کی کثرت سے یہ استنباط درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ۹۵ سے کم ہیں۔ پھر کیا آپ کی ذات مدینہ سے کم افضل ہے۔ اسی طرح مکہ کے نام بھی نسبتاً بہت کم ہیں۔ مکہ کے نام تقریباً ۴ بتائے گئے ہیں۔ مکہ، بکہ، البلد الامین، البيت العتيق، البيت الحرام، ام القری۔ پھر کیا مدینہ کے مقابلہ میں مکہ کی فضیلت و عظمت کم ہے۔ موجودہ مسلمانوں میں سائنٹفک طرز فکر نہیں۔ اس لئے وہ اکثر معاملات میں اسی قسم کی غیر منطقی باتیں کرتے ہیں۔ صحابہ و تابعین کبھی اس طرح کی باتیں نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ خدائے ذوالجلال کی عظمتوں میں گم تھے۔ ان کو ساری بڑائی صرف ایک خدا کی ذات میں نظر آتی تھی۔ اس لئے وہ اشخاص اور اماکن کی عظمتوں کی پیمائش بھی نہیں کرتے تھے۔ ۹ اکتوبر ۱۹۹۰ میں بوڑھا ہوگیا ہوں ، تمام بال سفید ہوگئے۔ اس مدت میں میں نے بے شمار صفحات لکھے۔ مگر ہر نئے دن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اب تک جو لکھا وہ صرف ابتدائی مشق کے طور پر تھا۔ لکھنے کا اصل کام اب شروع ہوگا۔ یہ احساس لاتناہی طور پر ہر آنے والے دن کو باقی رہتا ہے۔ اس تجربہ کی روشنی میں میرا خیال ہے کہ موجودہ دنیا صرف ’مشق‘ کی جگہ ہے، وہ لکھنے اور بولنے کی جگہ نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی صرف یہ سیکھ رہا ہے کہ وہ کیا بولے اور کس طرح لکھے۔ لکھنے اور بولنے کا حقیقی عمل صرف ان خوش قسمت افراد کے لئے مقدر ہے جن کو موت کے بعد خدا کی مغفرت حاصل ہواور انہیں جنت کی معیاری دنیا میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۰ محمد افضل لادی والا (بمبئی) سے اس موضوع پر گفت گو ہوئی کہ تبلیغی جماعت اور الرسالہ مشن میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ دونوں کا مقصد افراد کے اندر دینی بیداری لانا ہے۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page